چہروں پہ اب نقاب کہیں ہے کہیں نہیں

چہروں پہ اب نقاب کہیں ہے کہیں نہیں
شرم و حیا حجاب کہیں ہے کہیں نہیں


ہلچل مچی کہیں ہے کہیں پر جمود ہے
وہ شور انقلاب کہیں ہے کہیں نہیں


اس حسن تیز گام کی تصویر کیا بنے
جو حسن محو خواب کہیں ہے کہیں نہیں


کتنے شباب ڈھل گئے فکر معاش میں
رعنائی شباب کہیں ہے کہیں نہیں


یہ فیض اہل دل کی دعاؤں کا ہے نشاطؔ
ہلکا سا جو عذاب کہیں ہے کہیں نہیں