کنج تنہائی میں رکھا ہوا رہ جاتا ہے

کنج تنہائی میں رکھا ہوا رہ جاتا ہے
دل کہ سینے میں اچھلتا ہوا رہ جاتا ہے


جنبش چشم سے دنیا ہی بدل جاتی ہے
اور مری آنکھ میں سوچا ہوا رہ جاتا ہے


اب تو ایسا ہے کہ آنکھوں کو اگر کھول بھی لوں
دل کسی خواب میں لپٹا ہوا رہ جاتا ہے


لکھ تو لیتے ہیں ترا نام بصد شوق مگر
کیا کبھی ریت پہ لکھا ہوا رہ جاتا ہے


کچھ چلا جاتا ہے دریاؤں کے ہم راہ یہ دل
کچھ رگ جاں میں ہی بہتا ہوا رہ جاتا ہے


اس کی یادوں کو دل و جان سے رخصت کرنا
کام ایسا ہے کہ ہوتا ہوا رہ جاتا ہے


میں تو لوٹ آتا ہوں ہر شام کو گھر میں لیکن
دل کسی راہ پہ چلتا ہوا رہ جاتا ہے