Manzoor Arif

منظور عارف

منظور عارف کی غزل

    تھی کبھی اب مگر وہ چاہ نہیں

    تھی کبھی اب مگر وہ چاہ نہیں ان سے پہلی سی رسم و راہ نہیں اپنی فریاد بھی ہے جرم کی بات ان کی بیداد بھی گناہ نہیں کچھ نہ کچھ حسن بھی تو ہے مجرم سب کا سب آنکھ کا گناہ نہیں جانے کس مصلحت کے پیش نظر ظلم اب ان کے بے پناہ نہیں دیکھ عارفؔ یہ اوج عشق بھی دیکھ اک ترانہ ہے لب پہ آہ نہیں

    مزید پڑھیے

    اس بحر میں ڈوب کیوں نہ جاؤں

    اس بحر میں ڈوب کیوں نہ جاؤں کیوں موج نہ ایک اور اٹھاؤں میں قطرۂ آب سے بنا موج کیا بحر کے اور کام آؤں گر کوئی صدف قبول کرے میں بن کے گہر اسے دکھاؤں شاید کوئی لہر لینے آئے ساحل کے قریب گھر بناؤں تو اپنے خیال میں مگن ہو میں دور سے کوئی گیت گاؤں اشکوں کی جھڑی لگی ہوئی ہو بھیگا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    کیسے آ پہنچی ہے گلشن کی ہوا زنداں میں

    کیسے آ پہنچی ہے گلشن کی ہوا زنداں میں دل کا جو زخم تھا اک پھول بنا زنداں میں ایسا دلکش تھا کہ تھی موت بھی منظور ہمیں ہم نے جس جرم کی کاٹی ہے سزا زنداں میں میں گلستاں میں بھی تنہا تھا مگر یاد تو تھی کیسا بے یار و مددگار ہوا زنداں میں میں نے تنہائی سے تنگ آ کے اسے یاد کیا اب مرے ...

    مزید پڑھیے

    مری غزل میں تھیں اس کی نزاکتیں ساری

    مری غزل میں تھیں اس کی نزاکتیں ساری اسی کے روئے حسیں کی صباحتیں ساری وہ بولتا تھا تو ہر اک تھا گوش بر آواز وہ چپ ہوا تو ہیں بہری سماعتیں ساری وہ کیا گیا کہ ہر اک شخص رہ گیا تنہا اسی کے دم سے تھیں باہم رفاقتیں ساری ڈبو گیا وہ مرا لفظ لفظ دریا میں وہ غرق کر گیا میری علامتیں ...

    مزید پڑھیے

    پایاب موج اٹھی تو سر سے گزر گئی

    پایاب موج اٹھی تو سر سے گزر گئی اک سرو قد جوان کی دستار اتر گئی کرنے لگا تھا غرق سمندر جہان کو طوفاں ہی موجزن تھا جہاں تک نظر گئی اس تیرگی میں برق کی شوخی عجیب تھی آباد وہ ہوا جسے ویران کر گئی سوئے بدن کے بحر میں جاگی تھی خوں کی لہر جب چڑھ کے سر تک آئی تو جانے کدھر گئی صحن چمن ...

    مزید پڑھیے

    بام پر آؤ کبھی ماہ درخشاں کی طرح

    بام پر آؤ کبھی ماہ درخشاں کی طرح چھپ کے کیا جلنا چراغ تہ داماں کی طرح عمر بھر وہ در و دیوار کے پابند رہے گھر سے نکلے ہی نہیں ہیں مرے ارماں کی طرح اب اسے دیکھوں تو پہچان بھی شاید نہ سکوں دل مرا ٹوٹ گیا یار کے پیماں کی طرح دشت کی راہ تو لی عالم وحشت میں مگر دشت بھی نکلا مرے خانۂ ...

    مزید پڑھیے

    ہر شے لمحے کی مہماں ہے کیا گل کیا خوشبو

    ہر شے لمحے کی مہماں ہے کیا گل کیا خوشبو کیا مے کیا نشۂ آئینہ کیا آئینہ رو مورنی کی یہ خواہش وجد میں آ کر ناچے مور پیاس بجھانے کو دے دے بس دو قطرے آنسو کیا تھا وہ لمحوں کی رفاقت ہو گئی خواب و خیال تجھ بن ساری عمر رہا خالی میرا پہلو ذہنی رشتے قلبی ناطے سب اغراض پسند سب لمحوں کے ...

    مزید پڑھیے

    سر پہ سورج ہے کہیں سایۂ دیوار نہیں

    سر پہ سورج ہے کہیں سایۂ دیوار نہیں ایک پھیلا ہوا صحرا ہے کوئی یار نہیں جب سے دیکھی ہے تری صورت زیبا ہم نے دید گل کے بھی زمانے میں گنہ گار نہیں جب نہ بکتے تھے تو ہر شخص خریدار ملا اب جو بازار میں آئے تو خریدار نہیں شب کی تاریکی میں چپ چاپ مجھے قتل کرو دوستو سر مرا شایان سر دار ...

    مزید پڑھیے

    بے نیاز سکون منزل ہے

    بے نیاز سکون منزل ہے زندگی ارتقا پہ مائل ہے گم ہے یوں فکر کائنات میں دل یاد محبوب سے بھی غافل ہے فن فقط حسن کو نہیں کہتے اس میں خون جگر بھی شامل ہے تجھ پہ قربان اے غم دوراں تو مری زندگی کا حاصل ہے آپ کیا جانیں شورش طوفاں آپ کا دل رہین ساحل ہے آؤ کرنوں کے کھوج میں نکلیں تیرگی سے ...

    مزید پڑھیے

    جرس دل کی صدا بن کے چلے

    جرس دل کی صدا بن کے چلے تو اگر راہنما بن کے چلے مور بے مایہ کی رفتار چلوں تو اگر آبلہ پا بن کے چلے آرزو ہے کہ بنوں میں دریا اور تو مجھ پہ ہوا بن کے چلے ایسے گلشن میں گزاروں کوئی شب تو جہاں باد صبا بن کے چلے میں رہوں دشت میں جا کر اور تو چاندنی‌ شب میں بلا بن کے چلے عقل و دانش ترے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2