بے نیاز سکون منزل ہے

بے نیاز سکون منزل ہے
زندگی ارتقا پہ مائل ہے


گم ہے یوں فکر کائنات میں دل
یاد محبوب سے بھی غافل ہے


فن فقط حسن کو نہیں کہتے
اس میں خون جگر بھی شامل ہے


تجھ پہ قربان اے غم دوراں
تو مری زندگی کا حاصل ہے


آپ کیا جانیں شورش طوفاں
آپ کا دل رہین ساحل ہے


آؤ کرنوں کے کھوج میں نکلیں
تیرگی سے نباہ مشکل ہے


آپ اپنے ضمیر سے شرمائیں
آئنہ آپ کے مقابل ہے