تھی کبھی اب مگر وہ چاہ نہیں
تھی کبھی اب مگر وہ چاہ نہیں
ان سے پہلی سی رسم و راہ نہیں
اپنی فریاد بھی ہے جرم کی بات
ان کی بیداد بھی گناہ نہیں
کچھ نہ کچھ حسن بھی تو ہے مجرم
سب کا سب آنکھ کا گناہ نہیں
جانے کس مصلحت کے پیش نظر
ظلم اب ان کے بے پناہ نہیں
دیکھ عارفؔ یہ اوج عشق بھی دیکھ
اک ترانہ ہے لب پہ آہ نہیں