Manzoor Arif

منظور عارف

منظور عارف کی غزل

    سوچی تھی جو وہ جرم و سزا تک پہنچ گئی

    سوچی تھی جو وہ جرم و سزا تک پہنچ گئی جو بات دل میں تھی وہ خدا تک پہنچ گئی پتہ گرا کہ سر پہ کوئی سنگ آ لگا چپ چاپ اس کی یاد صدا تک پہنچ گئی اس گل پہ پھول پھول نے دل میں کیا ہے رشک جب شب کی بات باد صبا تک پہنچ گئی میں محو خواب تھا کہ مرے من کی ایک موج اٹھی تو اس کے بند قبا تک پہنچ ...

    مزید پڑھیے

    بولتی آنکھیں دیکھیں جاگتے لب دیکھیں

    بولتی آنکھیں دیکھیں جاگتے لب دیکھیں جو صورت ہم نے دیکھی ہے سب دیکھیں جانے فضا میں کب چلتی ہے موج ہوا بادل ہٹ کر چاند دکھائے کب دیکھیں آنکھیں بند کریں تو کیا کیا جلوے ہیں ہر سو گھور اندھیرے لپکیں جب دیکھیں چندا چمکے کلیاں چٹکیں پھول کھلیں جس دن اس کو دیکھیں خواب عجب ...

    مزید پڑھیے

    وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

    وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے وہ دل کی سونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے یہ ...

    مزید پڑھیے

    ہے آرزو کہ اور تو کیا خود خدا نہ ہو

    ہے آرزو کہ اور تو کیا خود خدا نہ ہو جب وہ ہو میرے پاس کوئی دوسرا نہ ہو دیوار سے کہی تھی جو اس تک پہنچ گئی اس بات پر ہی مجھ سے کہیں وہ خفا نہ ہو آہٹ بھی کوئی پا نہ سکے گھر سے یوں نکل ہر سمت دیکھ بھال کوئی دیکھتا نہ ہو سایہ بھی ساتھ لے کے نہ جا کوئے یار میں ہم زاد بھی سفر میں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    منظر جھلکتے چاند کا کتنا حسین تھا

    منظر جھلکتے چاند کا کتنا حسین تھا اس کی قبا کی طرح وہ بادل مہین تھا حیراں ہے مجھ کو دیکھ کے کیوں ٹوٹتا درخت میں اگ رہا ہوں اب کہ میں زیر زمین تھا اب کھل گیا ہے مجھ سے تو حد سے گزر گیا ورنہ وہ دیکھنے میں تو بے حد متین تھا میں ہوش مند رہ کے بھی نادان ہی رہا جذبات میں وہ بہہ کے بھی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ راز ہیں ایسے جو خبر تک نہیں پہنچے

    کچھ راز ہیں ایسے جو خبر تک نہیں پہنچے ایسے بھی ہیں جلوے جو نظر تک نہیں پہنچے اک لمحے کو آیا تھا سر بزم وہ خوش رو جو گھر سے گئے دیکھنے گھر تک نہیں پہنچے چھوٹے تھے جو قامت میں جنہیں جھک کے ملا تھا ان ہاتھوں کے پتھر مرے سر تک نہیں پہنچے اس گرد سے نکلو کہ سفر کا کریں آغاز یارو تم ...

    مزید پڑھیے

    شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے

    شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے کسی طوفان کی زد میں کوئی ساحل جیسے اسے دیکھا تو خیالوں میں جو منزل تھی گئی وہ ہی تھا میری تمناؤں کا حاصل جیسے میں تو سمجھا تھا کہ ہم دونوں کا جذبات ہے نام آج لگتے ہو مگر تم کسی عاقل جیسے ہمہ تن گوش ہوں آواز پہ اس کی ایسے میرے سینے میں دھڑکتا ہو ...

    مزید پڑھیے

    میں جن بلندیوں پہ تھا جن سے گرا بھی تھا

    میں جن بلندیوں پہ تھا جن سے گرا بھی تھا میرا خیال ہے کہ وہاں پر خدا بھی تھا اترا زمین پر تو نگاہیں چمک اٹھیں یہ حسن گرچہ خلد سے کم تھا جدا بھی تھا اس نے زمین پر بھی نہ جینے دیا مجھے یہ شیوۂ سزا کہ خدا کو روا بھی تھا پیش نظر تھا حضرت آدم کے جو شجر تھی لذت ثمر تو خیال بقا بھی ...

    مزید پڑھیے

    غم دوراں بھی نہیں ہے غم جاناں بھی نہیں

    غم دوراں بھی نہیں ہے غم جاناں بھی نہیں سخت مشکل میں ہے اب دل کہ غم جاں بھی نہیں مجھ سے ناراض ہیں سب جان‌ و جہان و جاناں میں کہ دل سے بھی جدا شے ہوں پریشاں بھی نہیں دل نے کچھ اور کہاں عقل نے کچھ اور کہی سن کے دونوں کی نہ مانی کہ میں ناداں بھی نہیں حد امکان تصور میں سہی میرا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2