بام پر آؤ کبھی ماہ درخشاں کی طرح
بام پر آؤ کبھی ماہ درخشاں کی طرح
چھپ کے کیا جلنا چراغ تہ داماں کی طرح
عمر بھر وہ در و دیوار کے پابند رہے
گھر سے نکلے ہی نہیں ہیں مرے ارماں کی طرح
اب اسے دیکھوں تو پہچان بھی شاید نہ سکوں
دل مرا ٹوٹ گیا یار کے پیماں کی طرح
دشت کی راہ تو لی عالم وحشت میں مگر
دشت بھی نکلا مرے خانۂ ویراں کی طرح
قیس کو دیکھا تھا میں نے سر صحرا اک دن
سر سے پا تک تھا فقط دیدۂ حیراں کی طرح
نشۂ مے ہو کہ حسن رخ جاناں عارفؔ
سر چڑھانا نہ کسی کو کبھی احساں کی طرح