منظر ہاشمی کی غزل

    بہت ملول ہوں غمگین ہوں اداس ہوں میں

    بہت ملول ہوں غمگین ہوں اداس ہوں میں مجھے یقین نہیں ہے کہ تیرے پاس ہوں میں بھلانا چاہو گے لیکن بھلا نہ پاؤ گے کہ اب تمہاری کہانی کا اقتباس ہوں میں زمانہ چھیڑے گا مجھ کو تو مجھ سے کیا لے گا کسی غریب کی ٹوٹی ہوئی سی آس ہوں میں مجھے کسی نے بھی لٹتے ہوئے نہیں دیکھا کہ ٹوٹا ٹوٹا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    آسودگی کا دور ہے فاقہ کشی بھی ہے

    آسودگی کا دور ہے فاقہ کشی بھی ہے سب کچھ ہے اپنے پاس مگر کچھ کمی بھی ہے برہم ہوئے کبھی تو کبھی مسکرا دئے بس میں تمہارے موت بھی ہے زندگی بھی ہے طوفان غم میں تم نے گلے سے لگا لیا ہاں مجھ کو ایسی پرسش غم کی خوشی بھی ہے رک رک کے میری سمت بڑھاتی ہے ہر قدم شاید کہ زندگی مجھے پہچانتی بھی ...

    مزید پڑھیے

    رات دن اس کے سوا کیا کام ہے

    رات دن اس کے سوا کیا کام ہے میرے ہونٹوں پر کسی کا نام ہے مل گیا مجھ کو وفاؤں کا صلہ آپ کے ہونٹوں پہ میرا نام ہے جسم مٹی کا تھا مٹی میں ملا زندگی کا بس یہی انجام ہے ہم سے پوچھو اس کی یادوں کا اثر سیکڑوں غم ہیں مگر آرام ہے کیوں زباں کھولی تھی سب کے سامنے ان کا مجھ پر بس یہی الزام ...

    مزید پڑھیے

    جو بات ایک آپ کی نیچی نظر میں ہے

    جو بات ایک آپ کی نیچی نظر میں ہے وہ بات اے حضور کہاں چارہ گر میں ہے آنکھوں کی اس نمی کا سبب پوچھتے ہو کیا افسانہ اک طویل مری چشم تر میں ہے جس کے خیال سے ہے منور یہ کائنات وہ حسن بے پناہ تو میرے جگر میں ہے منزل کی جستجو میں جو نکلا تھا ایک دن وہ قافلہ تو سنتے ہیں اب بھی سفر میں ...

    مزید پڑھیے

    کھلا کھلا ہوا چہرہ ترا چمن کی طرح

    کھلا کھلا ہوا چہرہ ترا چمن کی طرح وہ جسم ہے کہ لگے جسم سیم تن کی طرح نہ جانے کتنے حسیں ہیں مری نگاہوں میں کوئی بدن نہیں لیکن ترے بدن کی طرح جو اٹھ گئے ہیں انہیں یہ خبر نہیں شاید ہر انجمن تو نہیں تیری انجمن کی طرح یہ بیلا جوہی چنبیلی کی ہر طرف خوشبو مہک رہا ہے گلستاں کسی دلہن کی ...

    مزید پڑھیے

    حقیقت جانتا کوئی نہیں ہے

    حقیقت جانتا کوئی نہیں ہے بھلے سب ہیں برا کوئی نہیں ہے سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں کسی کا ہم نوا کوئی نہیں ہے جسے پانے کی سب کو ہے تمنا اسی کو ڈھونڈھتا کوئی نہیں ہے خموشی پر مری سب لب کشا تھے مگر اب بولتا کوئی نہیں ہے تری دانست میں اعمال تیرے جہاں میں دیکھتا کوئی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    مرے بلانے پہ کہتے ہیں وہ اجی کیا ہے

    مرے بلانے پہ کہتے ہیں وہ اجی کیا ہے کوئی بتاؤ کہ یہ لفظ واقعی کیا ہے نہ کوئی وجہ نہ کوئی سبب نہ کوئی بات یہ اجتناب ہے کیسا یہ بے رخی کیا ہے پہنچ ہے چاند ستاروں سے آگے اس کی مگر خود آدمی ہی نہ سمجھا کہ آدمی کیا ہے ہمیشہ چاند کی جانب نہ دیکھتے رہئے حضور آپ کی اس کی برابری کیا ...

    مزید پڑھیے