حقیقت جانتا کوئی نہیں ہے
حقیقت جانتا کوئی نہیں ہے
بھلے سب ہیں برا کوئی نہیں ہے
سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں
کسی کا ہم نوا کوئی نہیں ہے
جسے پانے کی سب کو ہے تمنا
اسی کو ڈھونڈھتا کوئی نہیں ہے
خموشی پر مری سب لب کشا تھے
مگر اب بولتا کوئی نہیں ہے
تری دانست میں اعمال تیرے
جہاں میں دیکھتا کوئی نہیں ہے
بہاریں گشت کرتی ہیں چمن میں
مگر پتا ہرا کوئی نہیں ہے
تری الفت کی چاہت ہے سبھی کو
مگر مجھ پر فدا کوئی نہیں ہے
خرد کی انتہا میں چاہتا ہوں
جنوں کی انتہا کوئی نہیں ہے