مرے بلانے پہ کہتے ہیں وہ اجی کیا ہے

مرے بلانے پہ کہتے ہیں وہ اجی کیا ہے
کوئی بتاؤ کہ یہ لفظ واقعی کیا ہے


نہ کوئی وجہ نہ کوئی سبب نہ کوئی بات
یہ اجتناب ہے کیسا یہ بے رخی کیا ہے


پہنچ ہے چاند ستاروں سے آگے اس کی مگر
خود آدمی ہی نہ سمجھا کہ آدمی کیا ہے


ہمیشہ چاند کی جانب نہ دیکھتے رہئے
حضور آپ کی اس کی برابری کیا ہے


میں ایک ایک کے حالات کو سمجھتا ہوں
وہ سب پہ انگلی اٹھاتا ہے کیوں وہی کیا ہے


صراحی چھین لے ساقی کے ہاتھ سے منظرؔ
یہ عرض داشت یہ منت یہ عاجزی کیا ہے