رات دن اس کے سوا کیا کام ہے
رات دن اس کے سوا کیا کام ہے
میرے ہونٹوں پر کسی کا نام ہے
مل گیا مجھ کو وفاؤں کا صلہ
آپ کے ہونٹوں پہ میرا نام ہے
جسم مٹی کا تھا مٹی میں ملا
زندگی کا بس یہی انجام ہے
ہم سے پوچھو اس کی یادوں کا اثر
سیکڑوں غم ہیں مگر آرام ہے
کیوں زباں کھولی تھی سب کے سامنے
ان کا مجھ پر بس یہی الزام ہے
مر کے مومن کو ملا منظرؔ سکوں
قبر میں آرام ہی آرام ہے