کھلا کھلا ہوا چہرہ ترا چمن کی طرح

کھلا کھلا ہوا چہرہ ترا چمن کی طرح
وہ جسم ہے کہ لگے جسم سیم تن کی طرح


نہ جانے کتنے حسیں ہیں مری نگاہوں میں
کوئی بدن نہیں لیکن ترے بدن کی طرح


جو اٹھ گئے ہیں انہیں یہ خبر نہیں شاید
ہر انجمن تو نہیں تیری انجمن کی طرح


یہ بیلا جوہی چنبیلی کی ہر طرف خوشبو
مہک رہا ہے گلستاں کسی دلہن کی طرح


ترا کمال کہ ہر رنگ تجھ میں پوشیدہ
لباس پھولوں کے ہیں تیرے پیرہن کی طرح


وہ میں نہیں ہوں تو پھر اور کون ہے منظرؔ
وہ سر سے پاؤں تک اک شخص میرے فن کی طرح