Mansooruddin Quraishi Mansoor

منصورالدین قریشی منصور

منصورالدین قریشی منصور کی غزل

    تجھ کو اے مہر جہاں تاب خبر ہے کہ نہیں

    تجھ کو اے مہر جہاں تاب خبر ہے کہ نہیں زیست کی شب مری محتاج سحر ہے کہ نہیں کس لئے خوف تجھے ہے مری ہم راہی میں رہبری میں مری محفوظ خضر ہے کہ نہیں تو ہی تنہا نہیں بد نام زمانہ اے دوست بے وفا تیری طرح نوع بشر ہے کہ نہیں کیوں کروں خود پہ میں پابندیٔ منزل عائد دشت پھیلا ہوا تا حد نظر ہے ...

    مزید پڑھیے

    دل کا یوں سامان راحت ڈھونڈھنا

    دل کا یوں سامان راحت ڈھونڈھنا حسن کا آغوش خلوت ڈھونڈھنا نیم وا مخمور آنکھوں میں مرا مے کدہ کا باب عشرت ڈھونڈھنا زندگی کی معرکہ آرائیاں اور میرا کنج عزلت ڈھونڈھنا قہقری رجعت ہے اپنے ذہن کی حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈھنا ہے مہم میری بھی یہ ظلمات کی ان سیہ آنکھوں میں امرت ...

    مزید پڑھیے

    اگلا سا کیوں وہ ولولۂ دل نہیں رہا

    اگلا سا کیوں وہ ولولۂ دل نہیں رہا کیوں شوق سیر کوچۂ قاتل نہیں رہا اب کیوں وبال جان ہوئی جا رہی ہے زیست کیا اب ترے ستم کے بھی قابل نہیں رہا معیار حسن و عشق کی پستی کو دیکھ کر اپنا تو دل لگانے کا اب دل نہیں رہا ایسا بھی ہو کسی کا نہ ذوق نظر بلند یہ کیا کہ کوئی پیار کے قابل نہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہم نظر اور ہم خیال کہاں

    ہم نظر اور ہم خیال کہاں عصر حاضر ہے حسب حال کہاں سرحد کائنات کے آگے ذہن کا اب بچھاؤں جال کہاں پست اقدار کی فضا ہو جب کوئی پیدا کرے کمال کہاں کیوں نہ تنہائی ہم کریں محسوس عشق کا حسن سے وصال کہاں شوق سے اب ملائیں وہ نظریں میری آنکھوں میں اب سوال کہاں اب غم یار ساتھ ہے میرے اب ...

    مزید پڑھیے