اگلا سا کیوں وہ ولولۂ دل نہیں رہا

اگلا سا کیوں وہ ولولۂ دل نہیں رہا
کیوں شوق سیر کوچۂ قاتل نہیں رہا


اب کیوں وبال جان ہوئی جا رہی ہے زیست
کیا اب ترے ستم کے بھی قابل نہیں رہا


معیار حسن و عشق کی پستی کو دیکھ کر
اپنا تو دل لگانے کا اب دل نہیں رہا


ایسا بھی ہو کسی کا نہ ذوق نظر بلند
یہ کیا کہ کوئی پیار کے قابل نہیں رہا


قدریں بدل گئی ہیں زمانہ کے ساتھ ساتھ
اب عشق بھی حیات کا حاصل نہیں رہا


جزو حیات بن گئیں طوفاں کی شورشیں
ارمان ہم کناریٔ ساحل نہیں رہا


منصورؔ کیا ہے اب جو کروں ان پہ میں نثار
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا