تجھ کو اے مہر جہاں تاب خبر ہے کہ نہیں

تجھ کو اے مہر جہاں تاب خبر ہے کہ نہیں
زیست کی شب مری محتاج سحر ہے کہ نہیں


کس لئے خوف تجھے ہے مری ہم راہی میں
رہبری میں مری محفوظ خضر ہے کہ نہیں


تو ہی تنہا نہیں بد نام زمانہ اے دوست
بے وفا تیری طرح نوع بشر ہے کہ نہیں


کیوں کروں خود پہ میں پابندیٔ منزل عائد
دشت پھیلا ہوا تا حد نظر ہے کہ نہیں


آنکھ تو تو نے نڈر ہو کے ملا لی تھی مگر
تب سے شرمائی ہوئی تیری نظر ہے کہ نہیں


عقل حیران ہے اقدار کی تبدیلی پر
کل جو تھا عیب وہی آج ہنر ہے کہ نہیں


کیوں وہ ہمسائیگیٔ عرش پہ نازاں نہ رہے
رفعت دار پہ منصورؔ کا گھر ہے کہ نہیں