ہم نظر اور ہم خیال کہاں

ہم نظر اور ہم خیال کہاں
عصر حاضر ہے حسب حال کہاں


سرحد کائنات کے آگے
ذہن کا اب بچھاؤں جال کہاں


پست اقدار کی فضا ہو جب
کوئی پیدا کرے کمال کہاں


کیوں نہ تنہائی ہم کریں محسوس
عشق کا حسن سے وصال کہاں


شوق سے اب ملائیں وہ نظریں
میری آنکھوں میں اب سوال کہاں


اب غم یار ساتھ ہے میرے
اب مری زندگی وبال کہاں


خیر و شر کی بھلی کہی تم نے
درمیاں ان کے انفعال کہاں


حق نوائی کے واسطے منصورؔ
منبر و دار کا سوال کہاں