Mansoora Ahmad

منصورہ احمد

منصورہ احمد کی غزل

    مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی

    مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی بے صدا شہر میں رو کر ہی پکارے کوئی کل تجھے دیکھنا چاہا تو عجب بات ہوئی آنکھ پر ٹانک گیا چاند ستارے کوئی میں تری ذات سے باہر بھی تری ذات میں ہوں کیسے دکھلائے مجھے میرے کنارے کوئی اس نئے دور میں بچوں پہ یہ کیا وقت پڑا آگ میں جھونک گیا ان کے ...

    مزید پڑھیے

    فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا

    فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا ترے چہرے کے سورج میں دکھائی کون دے گا مجھے اک بات کہنا ہے اسے کتنے یگوں سے مگر صحرا کی وسعت میں سنائی کون دے گا جو اک بیکل سی خوشبو میرے اندر پھوٹتی ہے اسے اس کے دریچے تک رسائی کون دے گا کسی کی قید سے چھٹنا تو خیر اک مسئلہ ہے مجھے میرے ہی زنداں ...

    مزید پڑھیے

    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا

    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا اس سے کرنا گفتگو بس آتے جاتے موسموں کی اور سرگرداں ہوا سے اپنے دل کی بات کہنا اب تو اس کی جستجو کا ایک ہی انداز ٹھہرا تتلیوں کے ساتھ پھرنا خوشبوؤں کے ساتھ رہنا پھر کسی کی آنکھ میں دیکھا گیا ہے ...

    مزید پڑھیے

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا میں ...

    مزید پڑھیے

    رات کی آنکھ میں میرے لئے کچھ خواب بھی تھے

    رات کی آنکھ میں میرے لئے کچھ خواب بھی تھے یہ الگ بات کہ ہر خواب میں گرداب بھی تھے زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے زخم کیوں رسنے لگے اک ترے چھو لینے سے دکھ سمندر تھے مگر موجۂ پایاب بھی تھے چاند کی کرنوں میں آہٹ ترے قدموں کی ...

    مزید پڑھیے