Mansoora Ahmad

منصورہ احمد

منصورہ احمد کی نظم

    عجب لہجہ ہے اس کا

    پانیوں پر جھلملاتی چاندنی جیسا مرے دل کا سمندر جب بھنور کی زد میں آ جائے سبھی تاریک لہریں گھیر کر مجھ کو کسی پاتال کا رستہ دکھاتی ہوں تو وہ ایسی صفت لہجہ مجھے پھر ساحلوں پر کھینچ لاتا ہے مجھے کہتا ہے دیکھو اس بھنور کے پار بھی دنیا میں کچھ لمحے دھڑکتے ہیں انہیں بھی اپنی سانسوں ...

    مزید پڑھیے

    گواہی

    وہ سیڑھی جو مرے دل سے تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے شکستہ ہے وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھلتی ہے مری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اٹی ہے زنگ خوردہ ہے گواہی دے نہیں سکتے نہ دو لیکن مرا اک کام تو کر دو مری پہچان میں الجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے مجھے دے دو کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی آواز دیتا ہے

    کوئی آواز دیتا ہے حریر و‌‌ پرنیاں جیسی صداؤں میں کوئی مجھ کو بلاتا ہے کچھ ایسا لمس ہے آواز کا جیسے اچانک فاختہ کے ڈھیر سے کومل پروں پر ہاتھ پڑ جائے اور ان میں ڈوبتا جائے بہت ہی دور سے آتی صدا ہے میں لفظوں کے معانی کی گواہی دے نہیں سکتی مگر ہر لفظ میں گھنگرو بندھے ہیں حریم جان میں ...

    مزید پڑھیے

    صدیوں پیچھے

    سنتے ہیں کہ نسلوں پہلے چین کی باغی شہزادی نے اپنی دنیا تک جانے کے پاگل شوق میں آنگن کی دہلیز الانگی اور گلیاں شہ راہیں ناپتی اک پھلواری تک جا پہنچی رسموں کے ٹھیکے داروں نے جرم تمنا کی پاداش میں حکم سنایا اب دنیا میں آنے والی ہر ہوا کو

    مزید پڑھیے

    سنو

    سنو جن کی ہنسی سے اس زمیں پر پھول کھلتے ہوں جنہیں نغمے پہ اتنی دسترس ہو کہ پنچھی ان کی لے پر چہچہاتے ہوں انہیں تو اس طرح چپ چاپ ہو جانا نہیں سجتا سنو ساری زمیں گمبھیر چپ اوڑھے ہوئے ساکت کھڑی ہے تم اتنی ہی کرو اک بار ہنس دو زمیں کی منجمد سانسوں میں پھر سے زندگی چلنے لگے گی پہلے دن ...

    مزید پڑھیے

    سیاست

    جب ہم چھوٹے چھوٹے سے تھے ہم سایے میں ایک بڑی بی رہتی تھی گلی محلے کے سب بچے اس کو ماسی کہتے تھے ماسی کی اک عجب ادا تھی گلی محلے کے جس بچے پر بھی اس کا داؤ چلتا مکوں اور دھمکوں سے ادھ موا سا کر کے خود چھپ جاتی فریادی بچے کی آہ و زاری سن کر رستہ چلنے والے یا بچے کے اپنے آ جاتے تو مجمع ...

    مزید پڑھیے