فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا
فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا
ترے چہرے کے سورج میں دکھائی کون دے گا
مجھے اک بات کہنا ہے اسے کتنے یگوں سے
مگر صحرا کی وسعت میں سنائی کون دے گا
جو اک بیکل سی خوشبو میرے اندر پھوٹتی ہے
اسے اس کے دریچے تک رسائی کون دے گا
کسی کی قید سے چھٹنا تو خیر اک مسئلہ ہے
مجھے میرے ہی زنداں سے رہائی کون دے گا
میں سلطاں کے در دولت پہ اک دستک تو دے لوں
مگر اس ہاتھ کو ذوق گدائی کون دے گا