مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی

مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی
بے صدا شہر میں رو کر ہی پکارے کوئی


کل تجھے دیکھنا چاہا تو عجب بات ہوئی
آنکھ پر ٹانک گیا چاند ستارے کوئی


میں تری ذات سے باہر بھی تری ذات میں ہوں
کیسے دکھلائے مجھے میرے کنارے کوئی


اس نئے دور میں بچوں پہ یہ کیا وقت پڑا
آگ میں جھونک گیا ان کے غبارے کوئی


کس طرح ناؤ چلے اتنے چڑھے پانی میں
تیری یادوں کا سمندر تو اتارے کوئی