کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
اس سے کرنا گفتگو بس آتے جاتے موسموں کی
اور سرگرداں ہوا سے اپنے دل کی بات کہنا
اب تو اس کی جستجو کا ایک ہی انداز ٹھہرا
تتلیوں کے ساتھ پھرنا خوشبوؤں کے ساتھ رہنا
پھر کسی کی آنکھ میں دیکھا گیا ہے موسم گل
کتنے دن کے بعد میں نے کوئی کھلتا رنگ پہنا
کو بہ کو پھرتے ہی کٹ جائے گی ساری عمر اپنی
کیا سرابوں کے نگر میں منزلوں کی قید سہنا
اک بھنور میں گھومتی ہے سانس کی کشتی ازل سے
اپنی فطرت ہی کہاں تھی پانیوں کے ساتھ بہنا