Mansoora Ahmad

منصورہ احمد

منصورہ احمد کے تمام مواد

5 غزل (Ghazal)

    مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی

    مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی بے صدا شہر میں رو کر ہی پکارے کوئی کل تجھے دیکھنا چاہا تو عجب بات ہوئی آنکھ پر ٹانک گیا چاند ستارے کوئی میں تری ذات سے باہر بھی تری ذات میں ہوں کیسے دکھلائے مجھے میرے کنارے کوئی اس نئے دور میں بچوں پہ یہ کیا وقت پڑا آگ میں جھونک گیا ان کے ...

    مزید پڑھیے

    فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا

    فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا ترے چہرے کے سورج میں دکھائی کون دے گا مجھے اک بات کہنا ہے اسے کتنے یگوں سے مگر صحرا کی وسعت میں سنائی کون دے گا جو اک بیکل سی خوشبو میرے اندر پھوٹتی ہے اسے اس کے دریچے تک رسائی کون دے گا کسی کی قید سے چھٹنا تو خیر اک مسئلہ ہے مجھے میرے ہی زنداں ...

    مزید پڑھیے

    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا

    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا اس سے کرنا گفتگو بس آتے جاتے موسموں کی اور سرگرداں ہوا سے اپنے دل کی بات کہنا اب تو اس کی جستجو کا ایک ہی انداز ٹھہرا تتلیوں کے ساتھ پھرنا خوشبوؤں کے ساتھ رہنا پھر کسی کی آنکھ میں دیکھا گیا ہے ...

    مزید پڑھیے

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا میں ...

    مزید پڑھیے

    رات کی آنکھ میں میرے لئے کچھ خواب بھی تھے

    رات کی آنکھ میں میرے لئے کچھ خواب بھی تھے یہ الگ بات کہ ہر خواب میں گرداب بھی تھے زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے زخم کیوں رسنے لگے اک ترے چھو لینے سے دکھ سمندر تھے مگر موجۂ پایاب بھی تھے چاند کی کرنوں میں آہٹ ترے قدموں کی ...

    مزید پڑھیے

6 نظم (Nazm)

    عجب لہجہ ہے اس کا

    پانیوں پر جھلملاتی چاندنی جیسا مرے دل کا سمندر جب بھنور کی زد میں آ جائے سبھی تاریک لہریں گھیر کر مجھ کو کسی پاتال کا رستہ دکھاتی ہوں تو وہ ایسی صفت لہجہ مجھے پھر ساحلوں پر کھینچ لاتا ہے مجھے کہتا ہے دیکھو اس بھنور کے پار بھی دنیا میں کچھ لمحے دھڑکتے ہیں انہیں بھی اپنی سانسوں ...

    مزید پڑھیے

    گواہی

    وہ سیڑھی جو مرے دل سے تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے شکستہ ہے وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھلتی ہے مری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اٹی ہے زنگ خوردہ ہے گواہی دے نہیں سکتے نہ دو لیکن مرا اک کام تو کر دو مری پہچان میں الجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے مجھے دے دو کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی آواز دیتا ہے

    کوئی آواز دیتا ہے حریر و‌‌ پرنیاں جیسی صداؤں میں کوئی مجھ کو بلاتا ہے کچھ ایسا لمس ہے آواز کا جیسے اچانک فاختہ کے ڈھیر سے کومل پروں پر ہاتھ پڑ جائے اور ان میں ڈوبتا جائے بہت ہی دور سے آتی صدا ہے میں لفظوں کے معانی کی گواہی دے نہیں سکتی مگر ہر لفظ میں گھنگرو بندھے ہیں حریم جان میں ...

    مزید پڑھیے

    صدیوں پیچھے

    سنتے ہیں کہ نسلوں پہلے چین کی باغی شہزادی نے اپنی دنیا تک جانے کے پاگل شوق میں آنگن کی دہلیز الانگی اور گلیاں شہ راہیں ناپتی اک پھلواری تک جا پہنچی رسموں کے ٹھیکے داروں نے جرم تمنا کی پاداش میں حکم سنایا اب دنیا میں آنے والی ہر ہوا کو

    مزید پڑھیے

    سنو

    سنو جن کی ہنسی سے اس زمیں پر پھول کھلتے ہوں جنہیں نغمے پہ اتنی دسترس ہو کہ پنچھی ان کی لے پر چہچہاتے ہوں انہیں تو اس طرح چپ چاپ ہو جانا نہیں سجتا سنو ساری زمیں گمبھیر چپ اوڑھے ہوئے ساکت کھڑی ہے تم اتنی ہی کرو اک بار ہنس دو زمیں کی منجمد سانسوں میں پھر سے زندگی چلنے لگے گی پہلے دن ...

    مزید پڑھیے

تمام