Manmohan Talkh

منموہن تلخ

ممتاز جدیدشاعر۔ یاس یگانہ چنگیزی کے شاگرد

One of prominent modern poets. Disciple of Yas Yagana Changezi.

منموہن تلخ کی غزل

    زمانہ ہے کہ مجھے روز شام ڈستا ہے

    زمانہ ہے کہ مجھے روز شام ڈستا ہے مگر یہ دل ہے کہ پہلے سے اور ہنستا ہے تو یہ بتا انہیں کس نے بنا دیا ایسا کہ تیرے سامنے ہر کوئی دست بستہ ہے میں اس کو چھوڑ کے اب جاؤں تو کہاں جاؤں یہی تو ایک میری زندگی کا رستہ ہے عجیب بات ہے لگتا ہے یوں ہر اک چہرہ کہ بولنے کے لیے جس طرح ترستا ہے جو ...

    مزید پڑھیے

    یہ شہر شہر سر عام اب منادی ہے

    یہ شہر شہر سر عام اب منادی ہے نہ وہ رہے گا ملاقات کا جو عادی ہے زمین دی ہے کھلی دھوپ دی ہوا دی ہے بہ نام زندگی کیسی کڑی سزا دی ہے میں اپنے آپ سے کیا پوچھتا ہوں رہ رہ کر یہ کیوں لگے کہ کسی نے مجھے صدا دی ہے ترا ہی روپ کوئی تھا یہاں جب آیا تھا یہ دیکھ وقت نے اب شکل کیا بنا دی ہے دعا ...

    مزید پڑھیے

    شکستہ پا کو بھی اب ذوق رہ نوردی ہے

    شکستہ پا کو بھی اب ذوق رہ نوردی ہے دلوں میں ہم نے وہ دھن منزلوں کی بھر دی ہے گزار کر تری یادوں میں چار دن ہم نے سمجھ لیا کہ کوئی خاص بات کر دی ہے مری طلب مری ہستی سے کچھ زیادہ نہ تھی اگرچہ مجھ پہ یہ تہمت جہاں نے دھر دی ہے جو راستے نظر آتے ہیں جانے پہچانے انہیں نے گم شدگی کی ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    میں خود کو ہر اک سمت سے گھیر کر

    میں خود کو ہر اک سمت سے گھیر کر کھڑا ہوں پرے خود سے منہ پھیر کر نہ خود سے بھی ملنے کی جلدی مچا مری مان تھوڑی بہت دیر کر میں اپنا ہی مد مقابل ہوں اب کہوں خود سے لے اب مجھے زیر کر کہوگے مگر کیا کہ خود کو تو میں کہیں سے بھی لے آؤں گا گھیر کر یوں ہی کھو دیا تجھ کو بھی خود کو بھی کبھی ...

    مزید پڑھیے

    یہ دل اب مجھ سے تھوڑی دیر سستانے کو کہتا ہے

    یہ دل اب مجھ سے تھوڑی دیر سستانے کو کہتا ہے اور آنکھیں موند کر ہر بات دہرانے کو کہتا ہے ہماری گمرہی کی بات ہی چھوڑو کہ ہر جادہ کہیں تک خود کو اب ہم سے ہی پہنچانے کو کہتا ہے رہی ہو وجہ کوئی بھی الگ تو ہو گئے تھے سب یہ مجھ میں کون پھر سب کو بلا لانے کو کہتا ہے مری مشکل کو لیکن کوئی ...

    مزید پڑھیے

    آئیں آنسو اگر آنکھوں میں تو بس پی جائیں

    آئیں آنسو اگر آنکھوں میں تو بس پی جائیں حال سب پوچھتے ہیں ہم نہ کہیں بھی جائیں دیکھتے ہو جو کبھی محو سخن خود سے ہمیں ہیں وہ باتیں بھی کہ خود سے جو فقط کی جائیں ہم کئی روز سے بے وجہ بہت خوش ہیں چلو زندگی کی یہ ادائیں بھی تو دیکھی جائیں ہم تو یوں چپ ہیں کہ کیا بات کسی سے کی جائے پھر ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں

    کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں کسی کے ساتھ مگر اور بھی اکیلے ہیں اب اس کے بعد نہ جانے نصیب میں کیا ہے نہ ساتھ آؤ ہمارے بہت جھمیلے ہیں کہاں ہے یاد ملا کوئی کب تو کب بچھڑا ہم اپنے دھیان سے اترے ہوئے سے میلے ہیں کہو نہ مجھ سے کہ چلتے ہیں اب ملیں گے پھر یہ کھیل وہ ہیں کہ ...

    مزید پڑھیے

    کچھ دیر تو سب کچھ ٹوٹنے کا ماحول رہا

    کچھ دیر تو سب کچھ ٹوٹنے کا ماحول رہا مت پوچھ کہ پھر اس دل پر کیسا ہول رہا جب چاہا اس میں خود کو چھپا لیتے ہیں سب آوازوں کا ہر ذات پہ کوئی خول رہا یوں لگتا تھا جو بات ہے الٹی پڑتی ہے اب کیا ہی کہیں تب ہول سا کوئی ہول رہا اب کون کہاں آیا کہ گیا معلوم نہیں بس قدموں کی آہٹ کا اک ماحول ...

    مزید پڑھیے

    صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو

    صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو ہے کوئی اور بھی سننے تو دے ذرا مجھ کو قریب اپنے جو آیا تو لڑکھڑا سا گیا تو میری فکر نہ کر کچھ نہیں ہوا مجھ کو میں برف بیچنے نکلا بھی تو ہمالے میں اور اس کے بعد زمانے سے ہے گلہ مجھ کو یہ کیسے درد ہیں جو رہ گئے ہیں بٹنے سے یہ کیسی گونج ہے کچھ بھی ...

    مزید پڑھیے

    ہر شخص اپنے آپ میں سمٹا ہوا ملا

    ہر شخص اپنے آپ میں سمٹا ہوا ملا ہر ایک سوچتا ہے مجھے کس سے کیا ملا اس شہر میں گزارتا اک عمر اور میں وہ تو یہ خیریت ہوئی بندہ بھلا ملا یا تو رہا ہوں خود سے ہی محو کلام میں یا پھر مجھی سا کوئی مجھے دوسرا ملا ایسے مری صدا نے تعاقب کیا مرا جیسے میں خود کو چھوڑ کے اوروں سے جا ملا کچھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3