Manmohan Talkh

منموہن تلخ

ممتاز جدیدشاعر۔ یاس یگانہ چنگیزی کے شاگرد

One of prominent modern poets. Disciple of Yas Yagana Changezi.

منموہن تلخ کے تمام مواد

30 غزل (Ghazal)

    میں ایک شام جو لوٹا غبار جاں بن کر

    میں ایک شام جو لوٹا غبار جاں بن کر بکھر کے رہ گیا راہوں کی داستاں بن کر میں خود میں گونجتا ہوں بن کے تیرا سناٹا مجھے نہ دیکھ مری طرح بے زباں بن کر میں اپنے آپ کا وہ شور تھا تجھے پا کر تجھے ڈرا دیا آواز بے اماں بن کر ہر ایک شخص ہے افواہ آپ ہی اپنی ہر اک کو جانتا ہے ہر کوئی گماں بن ...

    مزید پڑھیے

    اب اور سانحے ہم پر نہیں گزرنے کے

    اب اور سانحے ہم پر نہیں گزرنے کے گزر گئے ہیں جو لمحے تھے خود سے ڈرنے کے نہ بھاگنے کے رہے ہم نہ اب ٹھہرنے کے وہ لمحے آئے جو آ کر نہیں گزرنے کے بڑے بڑوں نے یہاں آ کے دم نہیں مارا وہ آئے مرحلے اپنی صدا سے ڈرنے کے یہ ایک عرصے کے چپ کی خراش اور سہی صدا کے زخم تو چپ سے نہیں تھے بھرنے ...

    مزید پڑھیے

    محسوس جو ہوتا ہے کہ ہم ہیں بھی نہیں بھی

    محسوس جو ہوتا ہے کہ ہم ہیں بھی نہیں بھی دیکھو تو جو ہم ایسے ہوں دو چار کہیں بھی اوہام کے اسرار بھی کچھ کم نہیں گہرے چکر میں بہت آئے ہیں کچھ اہل یقیں بھی از روز ازل ہے کہ نہیں ہے کا ہے محشر اور اس کا جواب آج بھی ہاں بھی ہے نہیں بھی جو بات سمجھ لے وہ کہیں بھی نہ ملے گا گھوم آؤ جدھر ...

    مزید پڑھیے

    ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے

    ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے ہوئی اک عمر کہ اپنی تگ و دو جاری ہے کہہ کے یہ مجھ سے کہ اس شہر میں ہو تم کب سے اینٹ سر پر کسی نے جیسے کہ دے ماری ہے اور لے آئے ہو تم باتیں یہ دنیا بھر کی اپنی باتوں سے یہاں پہلے ہی بے زاری ہے کوئی جس بات سے خوش ہے تو خفا دوسرا ہے کچھ بھی کہنے میں ...

    مزید پڑھیے

    کھولے گا راز کون تری کائنات کے

    کھولے گا راز کون تری کائنات کے لالے پڑے ہوئے ہیں یہاں اپنی ذات کے یوں روئی سے خیال کو رکھتا ہوں کات کے اڑتے پھریں روئیں نہ کہیں میری بات کے سب منتظر ہیں ایسی کسی اپنی مات کے کھل جائیں سب بھرم کسی راہ نجات کے سنتا ہوں مجھ سے مانگتی ہے موت بھی پناہ وہ پرخچے اڑائے ہیں میں نے حیات ...

    مزید پڑھیے

تمام

4 نظم (Nazm)

    دکھ سے خالی خالی رونا

    میں ہوں یا تم ہو یہ سچ ہے اپنے اندر ایک قبیلہ ہر کوئی ہے جس کو شاید رات کو صحرا کے رونے کا راز پتہ ہے ایسا رونا دور کہیں جیسے کچھ بچے صدیوں پہلے ہم نے جن کو قتل کیا ہو اور وہ اپنے قتل سے پہلے روئے چلے جاتے ہوں یا پھر یہ ان روحوں کا رونا ہو جو انسانی روپ میں ظاہر ہو نہ سکی ہوں ریت کے ...

    مزید پڑھیے

    جو خود میں تشکیل ہو رہا ہے

    کبھی کبھی مجھ کو جان پڑتا ہے جیسے مجھ میں گھرا ہوا پربتوں سے خالی سا اک محل ہو جہاں کبھی بدھ کے علم کا اک خزانہ تھا جس جگہ شلوک اور منتر ماحول میں نہیں خود مرے ہی اندر مری صدا میں ہمالیائی ہواؤں کی طرح گونجتے تھے عجیب عظمت کے ساتھ میں یوں الگ تھلک تھا کہ جس طرح میری موت کی ...

    مزید پڑھیے

    بہانے ڈھونڈتا ہوں میں

    بہانے ڈھونڈھتا ہوں میں کہ دفتر سے ذرا جلدی ہی اٹھ جاؤں (مجھے کیا دوستوں سے جا کے ملنا ہے؟) نہیں اک دوسرے سے ہم سبھی تنگ آئے بیٹھے ہیں (مجھے کیا گھر پہنچنا ہے؟) نہیں ہرگز نہیں الٹا بہانے ڈھونڈھتا ہوں میں کہ جتنا ہو سکے اتنا ہی میں گھر دیر سے پہنچوں (مجھے حاصل نہیں کیا بیوی بچوں کی ...

    مزید پڑھیے

    انجام

    وہی چہرے نظر کے سامنے ہیں جنہیں پہچاننا مشکل نہیں ہے یہ میرے سامنے برسوں رہے ہیں مگر! اب کس لیے یہ میرے سر میں مسلسل درد سا رہنے لگا ہے (انہیں ہر ایک پل تک تک کے شاید) (مری آنکھیں ہی شاید بجھ رہی ہیں) میں ان آنکھوں سے اب کتنا دکھی ہوں وہی چہرے میں جن سے آشنا ہوں مجھے آنکھوں پہ کتنا ...

    مزید پڑھیے