میں ایک شام جو لوٹا غبار جاں بن کر
میں ایک شام جو لوٹا غبار جاں بن کر بکھر کے رہ گیا راہوں کی داستاں بن کر میں خود میں گونجتا ہوں بن کے تیرا سناٹا مجھے نہ دیکھ مری طرح بے زباں بن کر میں اپنے آپ کا وہ شور تھا تجھے پا کر تجھے ڈرا دیا آواز بے اماں بن کر ہر ایک شخص ہے افواہ آپ ہی اپنی ہر اک کو جانتا ہے ہر کوئی گماں بن ...