Manmohan Talkh

منموہن تلخ

ممتاز جدیدشاعر۔ یاس یگانہ چنگیزی کے شاگرد

One of prominent modern poets. Disciple of Yas Yagana Changezi.

منموہن تلخ کی غزل

    میں ایک شام جو لوٹا غبار جاں بن کر

    میں ایک شام جو لوٹا غبار جاں بن کر بکھر کے رہ گیا راہوں کی داستاں بن کر میں خود میں گونجتا ہوں بن کے تیرا سناٹا مجھے نہ دیکھ مری طرح بے زباں بن کر میں اپنے آپ کا وہ شور تھا تجھے پا کر تجھے ڈرا دیا آواز بے اماں بن کر ہر ایک شخص ہے افواہ آپ ہی اپنی ہر اک کو جانتا ہے ہر کوئی گماں بن ...

    مزید پڑھیے

    اب اور سانحے ہم پر نہیں گزرنے کے

    اب اور سانحے ہم پر نہیں گزرنے کے گزر گئے ہیں جو لمحے تھے خود سے ڈرنے کے نہ بھاگنے کے رہے ہم نہ اب ٹھہرنے کے وہ لمحے آئے جو آ کر نہیں گزرنے کے بڑے بڑوں نے یہاں آ کے دم نہیں مارا وہ آئے مرحلے اپنی صدا سے ڈرنے کے یہ ایک عرصے کے چپ کی خراش اور سہی صدا کے زخم تو چپ سے نہیں تھے بھرنے ...

    مزید پڑھیے

    محسوس جو ہوتا ہے کہ ہم ہیں بھی نہیں بھی

    محسوس جو ہوتا ہے کہ ہم ہیں بھی نہیں بھی دیکھو تو جو ہم ایسے ہوں دو چار کہیں بھی اوہام کے اسرار بھی کچھ کم نہیں گہرے چکر میں بہت آئے ہیں کچھ اہل یقیں بھی از روز ازل ہے کہ نہیں ہے کا ہے محشر اور اس کا جواب آج بھی ہاں بھی ہے نہیں بھی جو بات سمجھ لے وہ کہیں بھی نہ ملے گا گھوم آؤ جدھر ...

    مزید پڑھیے

    ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے

    ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے ہوئی اک عمر کہ اپنی تگ و دو جاری ہے کہہ کے یہ مجھ سے کہ اس شہر میں ہو تم کب سے اینٹ سر پر کسی نے جیسے کہ دے ماری ہے اور لے آئے ہو تم باتیں یہ دنیا بھر کی اپنی باتوں سے یہاں پہلے ہی بے زاری ہے کوئی جس بات سے خوش ہے تو خفا دوسرا ہے کچھ بھی کہنے میں ...

    مزید پڑھیے

    کھولے گا راز کون تری کائنات کے

    کھولے گا راز کون تری کائنات کے لالے پڑے ہوئے ہیں یہاں اپنی ذات کے یوں روئی سے خیال کو رکھتا ہوں کات کے اڑتے پھریں روئیں نہ کہیں میری بات کے سب منتظر ہیں ایسی کسی اپنی مات کے کھل جائیں سب بھرم کسی راہ نجات کے سنتا ہوں مجھ سے مانگتی ہے موت بھی پناہ وہ پرخچے اڑائے ہیں میں نے حیات ...

    مزید پڑھیے

    ابھی شعور نے بس دکھتی رگ ٹٹولی ہے

    ابھی شعور نے بس دکھتی رگ ٹٹولی ہے ابھی تو زندگی بس نیند ہی میں بولی ہے کسی خیال نے شب کو جو آنکھ کھولی ہے دکھوں کی اوس میں دل نے نوا بھگو لی ہے پڑی نہیں ہے تمہیں وقت کی ابھی تک مار بھگت سکو گے بھی کیا تم زباں تو کھولی ہے مذاق بس یہ کیا میرے ساتھ فطرت نے متاع دل بھی مری بس نظر میں ...

    مزید پڑھیے

    سانس روکے رہو لو پھر وہ صدا آتی ہے

    سانس روکے رہو لو پھر وہ صدا آتی ہے جس کو ترسیں کئی صدیاں تو سنی جاتی ہے کوئی پہچان وہی پھانس بنی ہے کہ جو تھی اجنبیت وہی ہر سانس میں شرماتی ہے ہاتھ پھیلائے ہوئے مانگ رہی ہے کیا رات کیوں اندھیروں میں ہوا روئے چلی جاتی ہے موت کی نیند مگر اب کے ضرور اچٹی ہے ورنہ ہم ایسوں کو جھپکی ...

    مزید پڑھیے

    یوں ہی نہیں ہم بولتے جاتے یہ اپنی مجبوری ہے

    یوں ہی نہیں ہم بولتے جاتے یہ اپنی مجبوری ہے جونہی کچھ کہہ چکتے ہیں لگتا ہے بات ادھوری ہے سب اپنی افواہ بنے ہیں اصل میں کیا تھے بھول گئے جینے کی جو صورت ہے سو یہ بھی آج ضروری ہے دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں خون پسینہ ایک کیا ہے یہ میری مزدوری ہے اپنے بعد ہی دنیا میں ...

    مزید پڑھیے

    ہر شکل رفتہ رفتہ انجان ہو گئی ہے

    ہر شکل رفتہ رفتہ انجان ہو گئی ہے مشکل تھی جو بھی جس کی آسان ہو گئی ہے کہنا نہ کچھ کسی سے چپ چپ سے تکتے رہنا آخر یہی ہماری پہچان ہو گئی ہے اک شخص بھولا بھالا بستی کی پوچھتا ہے کیسے کہوں کہ بستی ویران ہو گئی ہے جو تھا رہا نہ کچھ بھی جو ہے نہ جانے کیا ہے سو اب یہاں سے رخصت آسان ہو گئی ...

    مزید پڑھیے

    کس لیے سب کو عجب بوجھ لگا سر اپنا

    کس لیے سب کو عجب بوجھ لگا سر اپنا لے کے محفل میں جو پہنچا میں کٹا سر اپنا ہاتھ لپکے تو بہت پہنچے نہ گردن تک بھی نہ مگر اہل نظر تھے نہ جھکا سر اپنا رسم پھر رسم ہے ٹھہرا ہے لہو ہی جو سہاگ چمک اے تیغ ہوا لے یہ رہا سر اپنا سب ہوا بھول گئی سرکشی و شہ زوری اک ذرا دوش ہوا پر جو اڑا سر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3