خبر دھڑکنوں سے یہ میں نے سنی ہے
خبر دھڑکنوں سے یہ میں نے سنی ہے مرے دل نے تیری محبت چنی ہے غزل جو مرے لب پہ ہے آج آئی یہ الفت کے دھاگوں سے میں نے بنی ہے چڑھا ہے محبت کا رنگ تیری ایسا کہ جیسا چڑھا کوئی رنگ پھاگنی ہے بھلانے کی تجھ کو ذرا کی جو کوشش تری یاد آئی مجھے سو گنی ہے تپسیا میں رہتا ہے یہ لین تیری شکھرؔ کا ...