کہاں درد دل کی دوا چاہتی ہوں

کہاں درد دل کی دوا چاہتی ہوں
محبت میں ہونا فنا چاہتی ہوں


دکھا دے جو چہرے کے پیچھے کا چہرہ
میں ایسا کوئی آئنہ چاہتی ہوں


تراشا نہیں ہے تجھے میں نے یوں ہی
بنانا میں تجھ کو خدا چاہتی ہوں


نہیں چاہتی میں سوا اس کے کچھ بھی
اگر دے سکو تو وفا چاہتی ہوں


سزا جس کی کاٹی ہے تا عمر میں نے
شکھرؔ جاننا وہ خطا چاہتی ہوں