شمع الفت کی بجھا دوں یہ کہاں ممکن ہے
شمع الفت کی بجھا دوں یہ کہاں ممکن ہے
تیری یادوں کو مٹا دوں یہ کہاں ممکن ہے
میری الفت کا ہے دل میں ترے آنا جانا
کوئی دیوار لگا دوں یہ کہاں ممکن ہے
موت کے بعد بھی تجھ کو ہے بھلانا مشکل
جیتے جی تجھ کو بھلا دوں یہ کہاں ممکن ہے
صرف خوشیوں کو پتا تیرا بتا دیتی ہوں
غم کو تیرا میں پتا دوں یہ کہاں ممکن ہے
توڑ کر دل کو شکھرؔ اس نے خطا کی لیکن
اپنے دلبر کو سزا دوں یہ کہاں ممکن ہے