گزرا اداسیوں میں ہی جیون تمام ہے

گزرا اداسیوں میں ہی جیون تمام ہے
لب پر ہمارے پھر بھی تمہارا ہی نام ہے


تیرے بغیر ہم سے ہے موسم خفا خفا
خاموشیوں کو اوڑھے ہوئے بیٹھی شام ہے


مجبوریوں کی جیل میں ہے قید وہ کہیں
ورنہ تو میرے پیار کو کرتا سلام ہے


تیرے سوائے دل میں کسی کا گزر نہیں
یادوں نے تیری ایسا کیا انتظام ہے


اشکوں کی روشنائی سے میں نے ہے جو لکھا
چھایا ہر ایک دل پہ شکھرؔ وہ کلام ہے