منیش شکلا کی غزل

    گھبرا کر افلاک کی دہشت گردی سے

    گھبرا کر افلاک کی دہشت گردی سے ہم نے خود کو توڑ دیا بے دردی سے جب خود کو ہر طور بیاباں کر ڈالا تب جا کر باز آئے دشت نوردی سے اب بھی کیا کچھ کہنے کی گنجائش ہے سب کچھ ظاہر ہے چہرے کی زردی سے ہم اک بار بھٹک کر اتنا بھٹکے ہیں اب تک ڈرتے ہیں آوارہ گردی سے ہم بھی عشق کی پگڈنڈی سے گزرے ...

    مزید پڑھیے

    دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں

    دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں ایک مصور نقش ہوا تصویروں میں چند لکیریں تو اس درجہ گہری تھیں دیکھنے والا ڈوب گیا تصویروں میں ایک عجب سا جادو بکھرا رنگوں کا سب کو اپنا عکس دکھا تصویروں میں ایک پرانے زخم کے ٹانکے ٹوٹ گئے ایک پرانا درد ملا تصویروں میں بھولی بسری یادوں کے منظر ...

    مزید پڑھیے

    مخالفین کو حیران کرنے والا ہوں

    مخالفین کو حیران کرنے والا ہوں میں اپنی ہار کا اعلان کرنے والا ہوں سنا ہے دشت میں وحشت سکون پاتی ہے سو اپنے آپ کو ویران کرنے والا ہوں فضا میں چھوڑ رہا ہوں خیال کا طائر سکوت عرش کو گنجان کرنے والا ہوں مٹا رہا ہوں خرد کی تمام تشبیہیں جنوں کا راستہ آسان کرنے والا ہوں حقیقتوں سے ...

    مزید پڑھیے

    فقیرانہ طبیعت تھی بہت بے باک لہجہ تھا

    فقیرانہ طبیعت تھی بہت بے باک لہجہ تھا کبھی مجھ میں بھی ہنستا کھیلتا اک شخص رہتا تھا بگولے ہی بگولے ہیں مری ویران آنکھوں میں کبھی ان رہ گزاروں میں کوئی دریا بھی بہتا تھا تجھے جب دیکھتا ہوں تو خود اپنی یاد آتی ہے مرا انداز ہنسنے کا کبھی تیرے ہی جیسا تھا کبھی پرواز پر میری ...

    مزید پڑھیے

    کسی بھی شے پہ آ جانے میں کتنی دیر لگتی ہے

    کسی بھی شے پہ آ جانے میں کتنی دیر لگتی ہے مگر پھر دل کو سمجھانے میں کتنی دیر لگتی ہے ذرا سا وقت لگتا ہے کہیں سے اٹھ کے جانے میں مگر پھر لوٹ کر آنے میں کتنی دیر لگتی ہے بلا کا روپ یہ تیور سراپا دھار ہیرے کی کسی کے جان سے جانے میں کتنی دیر لگتی ہے فقط آنکھوں کی جنبش سے بیاں ہوتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

    تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا یہ کچھ الزام ہیں میرے صفائی کیوں نہیں دیتا مرے ہنستے ہوئے لہجے سے دھوکا کھا رہے ہو تم مرا اترا ہوا چہرہ دکھائی کیوں نہیں دیتا نظر انداز کر رکھا ہے دنیا نے تجھے کب سے کسی دن اپنے ہونے کی دہائی کیوں نہیں دیتا میں تجھ کو دیکھنے سے کس لیے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3