گھبرا کر افلاک کی دہشت گردی سے
گھبرا کر افلاک کی دہشت گردی سے
ہم نے خود کو توڑ دیا بے دردی سے
جب خود کو ہر طور بیاباں کر ڈالا
تب جا کر باز آئے دشت نوردی سے
اب بھی کیا کچھ کہنے کی گنجائش ہے
سب کچھ ظاہر ہے چہرے کی زردی سے
ہم اک بار بھٹک کر اتنا بھٹکے ہیں
اب تک ڈرتے ہیں آوارہ گردی سے
ہم بھی عشق کی پگڈنڈی سے گزرے ہیں
واقف ہیں پیچ و خم کی سر دردی سے