منیش شکلا کی غزل

    ضبط غم سے سوا ملال ہوا

    ضبط غم سے سوا ملال ہوا اشک آئے تو جی بحال ہوا پھر سے بجھنے لگی ہے بینائی پھر تری دید کا سوال ہوا اک ذرا چاند کے ابھرنے سے دیکھ سورج کا رنگ لال ہوا کتنے لوگوں سے ملنا جلنا تھا خود سے ملنا بھی اب محال ہوا ہم نے ماضی کا ہر ورق پلٹا ہم کو ہر بات پر ملال ہوا ہم تو ٹک دیکھتے رہے اس ...

    مزید پڑھیے

    جینے کی تیاری چھوڑ

    جینے کی تیاری چھوڑ یار مرے ہشیاری چھوڑ سیدھے اپنی بات پہ آ یہ لہجہ درباری چھوڑ یا دنیا کا خوف ہٹا یا پھر ہم سے یاری چھوڑ چہرہ گم ہو جائے گا خود سے یہ عیاری چھوڑ دیوانوں سے ہاتھ ملا اب یہ دنیا داری چھوڑ لوٹ کے گھر بھی جانا ہے منصب تخت سواری چھوڑ اپنے دل سے پوچھ ذرا چل تو بات ...

    مزید پڑھیے

    رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں

    رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں تصویروں کے داغ ابھرتے جاتے ہیں وقت کی سازش گہری ہوتی جاتی ہے دیواروں کے رنگ اترتے جاتے ہیں بن کر پھر آسیب بھٹکنے لگتے ہیں دل کے وہ احساس جو مرتے جاتے ہیں یادوں میں اک ٹیس بنی ہی رہتی ہے دھیرے دھیرے زخم تو بھرتے جاتے ہیں آخر تک انسان اکیلا رہتا ...

    مزید پڑھیے

    نئے منظر سرابوں کے مری آنکھوں میں بھر دینا

    نئے منظر سرابوں کے مری آنکھوں میں بھر دینا اگر منزل نظر آئے مجھے گمراہ کر دینا مجھے یہ کشمکش یہ شور و غل سیراب کرتے ہیں مری کشتی کو دریا اور دریا کو بھنور دینا مری آوارگی ہی میرے ہونے کی علامت ہے مجھے پھر اس سفر کے بعد بھی کوئی سفر دینا مری پرواز کی حسرت یقیناً زور مارے گی اگر ...

    مزید پڑھیے

    زمیں کے ہاتھ یوں اپنا شکنجہ کس رہے تھے

    زمیں کے ہاتھ یوں اپنا شکنجہ کس رہے تھے ستوں سارے محل کے رفتہ رفتہ دھنس رہے تھے امیدیں لمحہ لمحہ گھٹ کے مرتی جا رہی تھیں عجب آسیب سے آ کر دلوں میں بس رہے تھے شجر پہ زہر نے اب رنگ دکھلایا ہے اپنا رتوں کے سانپ یوں تو مدتوں سے ڈس رہے تھے مرا سورج مری آنکھوں کے آگے بجھ رہا تھا مرے ...

    مزید پڑھیے

    لمحہ لمحہ درد ٹپکتا رہتا ہے

    لمحہ لمحہ درد ٹپکتا رہتا ہے جانے اندر کون سسکتا رہتا ہے اک آہٹ سی ہوتی رہتی ہے دل میں اس صحرا میں کون بھٹکتا رہتا ہے ہجر زدہ اک عاشق محو غم اکثر ماضی کے اوراق پلٹتا رہتا ہے پھول سی کوئی یاد ہے اس سے وابستہ میرے دل کا زخم مہکتا رہتا ہے دل جیسے میلے میں کھویا اک بچہ ہر آہٹ کی اور ...

    مزید پڑھیے

    اک خواب چھن سے ٹوٹ کے آنکھوں میں گڑ گیا

    اک خواب چھن سے ٹوٹ کے آنکھوں میں گڑ گیا اتنا ہنسے کہ چیخ کے رونا بھی پڑ گیا یہ کس نے اپنی ٹیس ورق پر اتار دی یہ کون اپنے دل کو سیاہی سے جڑ گیا اب تو خیال یار سے ہوتا ہے خوف سا چہرہ کسی کی یاد کا کتنا بگڑ گیا لہروں کا شور تھم گیا طوفان سو گئے کشتی کے ڈوبتے ہی سمندر اجڑ گیا جب تک ...

    مزید پڑھیے

    ایک ہی بار میں خوابوں سے کنارہ کر کے

    ایک ہی بار میں خوابوں سے کنارہ کر کے بجھ گئی دید شب وصل نظارہ کر کے جز ترے اور طریقے بھی نکل سکتے تھے ہم نے دیکھا ہی نہیں خود کو دوبارہ کر کے ہم تو بس بولنے والے تھے سبھی کچھ سچ سچ تم نے اچھا ہی کیا چپ کا اشارہ کر کے ہم تو صدیوں سے اسی طور بسر کرتے ہیں تم بھی کچھ روز یہاں دیکھو ...

    مزید پڑھیے

    محبت کی فراوانی مبارک

    محبت کی فراوانی مبارک تمہیں آنکھوں کی طغیانی مبارک تمہارا چاند پورا ہو گیا ہے تمہیں ٹھہرا ہوا پانی مبارک اتر آیا ہے دل میں نور کوئی تمہیں چہرے کی تابانی مبارک کسی پر پھر یقیں کرنے لگے ہو تمہیں پھر سے یہ نادانی مبارک تم اپنی بات کہنا جانتے ہو تمہیں لفظوں کی آسانی ...

    مزید پڑھیے

    سفر کے تصور سے سہما ہوا ہوں

    سفر کے تصور سے سہما ہوا ہوں بڑی دیر سے یوں ہی ٹھہرا ہوا ہوں ادھر ڈوبتے جا رہے ہیں ستارے ادھر میں خیالوں میں الجھا ہوا ہوں جلانے کے قابل نہ لکھنے کے لائق میں کاغذ ہوں سادہ پہ بھیگا ہوا ہوں سنبھالے ہوں خود کو بڑی کاوشوں سے مجھے چھو نہ لینا میں چٹخا ہوا ہوں مسلسل پڑی ہے کڑی دھوپ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3