منیش شکلا کے تمام مواد

26 غزل (Ghazal)

    ضبط غم سے سوا ملال ہوا

    ضبط غم سے سوا ملال ہوا اشک آئے تو جی بحال ہوا پھر سے بجھنے لگی ہے بینائی پھر تری دید کا سوال ہوا اک ذرا چاند کے ابھرنے سے دیکھ سورج کا رنگ لال ہوا کتنے لوگوں سے ملنا جلنا تھا خود سے ملنا بھی اب محال ہوا ہم نے ماضی کا ہر ورق پلٹا ہم کو ہر بات پر ملال ہوا ہم تو ٹک دیکھتے رہے اس ...

    مزید پڑھیے

    جینے کی تیاری چھوڑ

    جینے کی تیاری چھوڑ یار مرے ہشیاری چھوڑ سیدھے اپنی بات پہ آ یہ لہجہ درباری چھوڑ یا دنیا کا خوف ہٹا یا پھر ہم سے یاری چھوڑ چہرہ گم ہو جائے گا خود سے یہ عیاری چھوڑ دیوانوں سے ہاتھ ملا اب یہ دنیا داری چھوڑ لوٹ کے گھر بھی جانا ہے منصب تخت سواری چھوڑ اپنے دل سے پوچھ ذرا چل تو بات ...

    مزید پڑھیے

    رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں

    رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں تصویروں کے داغ ابھرتے جاتے ہیں وقت کی سازش گہری ہوتی جاتی ہے دیواروں کے رنگ اترتے جاتے ہیں بن کر پھر آسیب بھٹکنے لگتے ہیں دل کے وہ احساس جو مرتے جاتے ہیں یادوں میں اک ٹیس بنی ہی رہتی ہے دھیرے دھیرے زخم تو بھرتے جاتے ہیں آخر تک انسان اکیلا رہتا ...

    مزید پڑھیے

    نئے منظر سرابوں کے مری آنکھوں میں بھر دینا

    نئے منظر سرابوں کے مری آنکھوں میں بھر دینا اگر منزل نظر آئے مجھے گمراہ کر دینا مجھے یہ کشمکش یہ شور و غل سیراب کرتے ہیں مری کشتی کو دریا اور دریا کو بھنور دینا مری آوارگی ہی میرے ہونے کی علامت ہے مجھے پھر اس سفر کے بعد بھی کوئی سفر دینا مری پرواز کی حسرت یقیناً زور مارے گی اگر ...

    مزید پڑھیے

    زمیں کے ہاتھ یوں اپنا شکنجہ کس رہے تھے

    زمیں کے ہاتھ یوں اپنا شکنجہ کس رہے تھے ستوں سارے محل کے رفتہ رفتہ دھنس رہے تھے امیدیں لمحہ لمحہ گھٹ کے مرتی جا رہی تھیں عجب آسیب سے آ کر دلوں میں بس رہے تھے شجر پہ زہر نے اب رنگ دکھلایا ہے اپنا رتوں کے سانپ یوں تو مدتوں سے ڈس رہے تھے مرا سورج مری آنکھوں کے آگے بجھ رہا تھا مرے ...

    مزید پڑھیے

تمام