منیش شکلا کی غزل

    رات کے درد کا مارا نکلا

    رات کے درد کا مارا نکلا چاند بھی پارہ پارہ نکلا آپ سمندر کی کہتے ہیں دریا تک تو کھارا نکلا اوبا دنیا کی ہر شے سے دل آخر بنجارہ نکلا سورج کے آنے تک چمکا باغی ایک ستارہ نکلا آگ نہ درباروں تک پہنچی مخبر ایک شرارہ نکلا جو سمجھا تھا خود کو ناظر وہ بھی ایک نظارہ نکلا پلٹے دل کے ...

    مزید پڑھیے

    اک اندھی دوڑ تھی اکتا گیا تھا

    اک اندھی دوڑ تھی اکتا گیا تھا میں خود ہی صف سے باہر آ گیا تھا نہ دل بازار میں اس کا لگا پھر جسے گھر کا پتا یاد آ گیا تھا فقط اب ریت کی چادر بچھی ہے سنا ہے اس طرف دریا گیا تھا اسی نے راہ دکھلائی جہاں کو جو اپنی راہ پر تنہا گیا تھا مجھے جلنا پڑا مجبور ہو کر اندھیرا اس قدر گہرا گیا ...

    مزید پڑھیے

    دل بے رحم کی خاطر مدعا کچھ بھی نہیں ہوتا

    دل بے رحم کی خاطر مدعا کچھ بھی نہیں ہوتا عجب حالت ہے اب شکوہ گلا کچھ بھی نہیں ہوتا کوئی صورت ابھرتی ہے نہ میں مسمار ہوتا ہوں میں وہ پتھر کہ جس کا فیصلہ کچھ بھی نہیں ہوتا کسی کو ساتھ لے لینا کسی کے ساتھ ہو لینا فقیروں کے لئے اچھا برا کچھ بھی نہیں ہوتا کبھی چلنا مرے آگے کبھی رہنا ...

    مزید پڑھیے

    آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے

    آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے پھر اسی در سے گزر کے دیکھتے گفتگو کا کوئی تو ملتا سرا پھر اسے ناراض کر کے دیکھتے کاش جڑ جاتا وہ ٹوٹا آئنہ ہم بھی کچھ دن بن سنور کے دیکھتے رہگزر ہی کو ٹھکانا کر لیا کب تلک ہم خواب گھر کے دیکھتے کاش مل جاتا کہیں ساحل کوئی ہم بھی کشتی سے اتر کے ...

    مزید پڑھیے

    یار ہماری بات نہ پوچھ

    یار ہماری بات نہ پوچھ کیسے بیتی رات نہ پوچھ کس درجہ پامال ہوئے بیکس کے جذبات نہ پوچھ اب تک جسم سلگتا ہے کیسی تھی برسات نہ پوچھ آنکھوں کی تحریر سمجھ کیا ہے اپنی ذات نہ پوچھ بس اپنا کردار نبھا کس کی ہوگی مات نہ پوچھ دل اف کر کے بیٹھ گیا کیسے تھے لمحات نہ پوچھ سفر کڑا ہے چلتا ...

    مزید پڑھیے

    خواب کا چہرہ پیلا پڑتے دیکھا ہے

    خواب کا چہرہ پیلا پڑتے دیکھا ہے اک تعبیر کو سولی چڑھتے دیکھا ہے اک تصویر جو آئینے میں دیکھی تھی اس کا اک اک نقش بگڑتے دیکھا ہے صبح سے لے کر شام تلک ان آنکھوں نے اپنے ہی سائے کو بڑھتے دیکھا ہے اس سے حال چھپانا تو ہے نا ممکن ہم نے اس کو آنکھیں پڑھتے دیکھا ہے اشک رواں رکھنا ہی ...

    مزید پڑھیے

    دل بھی جیسے ہمارا کمرہ تھا

    دل بھی جیسے ہمارا کمرہ تھا کل اثاثہ زمیں پہ بکھرا تھا آسماں ہی اٹھا لیا سر پہ جانے کیا کچھ زمیں پہ گزرا تھا پھر نئی خواہشیں ابھر آئیں دل ابھی حادثوں سے ابرا تھا چاند کی چاندنی بجا لیکن رنگ اس کا بھی صاف ستھرا تھا کیا ہوا ڈوب کیوں گیا آخر خواب تو ساحلوں پہ اترا تھا آشیاں تو ...

    مزید پڑھیے

    بھٹکتا کارواں ہے اور میں ہوں

    بھٹکتا کارواں ہے اور میں ہوں تلاش رائیگاں ہے اور میں ہوں بتاؤں کیا تمہیں حاصل سفر کا ادھوری داستاں ہے اور میں ہوں نیا کچھ بھی نہیں قصے میں میرے وہی بوجھل سماں ہے اور میں ہوں ہر اک جانب طلسماتی مناظر نظر کا امتحاں ہے اور میں ہوں کوئی شاہد نہیں سجدوں کا میرے جبیں پر اک نشاں ہے ...

    مزید پڑھیے

    زندگی کٹ گئی سرابوں میں

    زندگی کٹ گئی سرابوں میں خود کو ڈھونڈا کئے کتابوں میں زندگی دیکھ لے نظر بھر کے ہم ہیں شامل ترے خرابوں میں ہر نشہ تھا لہو کی گرمی سے اب وہ مستی کہاں شرابوں میں مختصر یہ کہ کٹ گیا رستہ کچھ گناہوں میں کچھ ثوابوں میں درد کی داستاں ادھوری ہے ہم کو رکھ لیجئے حسابوں میں کیوں سمندر ...

    مزید پڑھیے

    ہر لمحہ نم دیدہ رہنے کی عادت

    ہر لمحہ نم دیدہ رہنے کی عادت لے ڈوبی رنجیدہ رہنے کی عادت اب اپنا چہرہ بیگانہ لگتا ہے ہم کو تھی سنجیدہ رہنے کی عادت آخر ہم کو بے زاری تک لے آئی ہر شے پر گرویدہ رہنے کی عادت رفتہ رفتہ عریانی تک آ پہنچے جن کو تھی پوشیدہ رہنے کی عادت دکھ جاتے ہیں یوں ہی کچھ رنگیں منظر اچھی ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3