Majrooh Sultanpuri

مجروح سلطانپوری

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

One of the most lyrical of ghazal poets associated with progressive movement.Outstanding film lyricist. Recipient of Dada Sahab Phalke award.

مجروح سلطانپوری کی غزل

    مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

    مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر اڑی زلف چہرہ پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے وہی بات جو وہ نہ کہہ سکے مرے شعر و نغمہ میں آ گئی وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدح شراب میں ڈھل ...

    مزید پڑھیے

    مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہے

    مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہے مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے وہ جو ہوئے فردوس بدر تقصیر تھی وہ آدم کی مگر میرا عذاب در بدری میری نا کردہ گناہی ہے سنگ تو کوئی بڑھ کے اٹھاؤ شاخ ثمر کچھ دور نہیں جس کو بلندی سمجھے ہو ان ہاتھوں کی کوتاہی ہے پھر کوئی منظر پھر ...

    مزید پڑھیے

    ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے

    ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرے جو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرے بہت ہی تلخ نوا ہوں مگر عزیز وطن میں کیا کروں جو ترا درد بے قرار کرے قدم کو فیض جنوں سے وہ حوصلہ ہے نصیب جو خار راہ کو بھی شمع رہ گزار کرے جگائیں ہم سفروں کو اٹھائیں پرچم شوق نہ جانے کب ہو سحر کون انتظار کرے مثال ملتی ...

    مزید پڑھیے

    خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے

    خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے راس آئے تو ہے چھاؤں بہت برگ و شجر کی ہاتھ آئے تو ہر شاخ ثمر ریز بہت ہے لوگو مری گل کاری وحشت کا صلہ کیا دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے منعم کی طرح پیر حرم پیتے ہیں وہ جام رندوں کو بھی جس جام سے پرہیز بہت ہے مصلوب ...

    مزید پڑھیے

    وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہے

    وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہے وہ شعلۂ آوارہ ہماری ہی زباں ہے اب ہاتھ ہمارے ہے عناں رخش جنوں کی اب سر پہ ہمارے کلہ سنگ بتاں ہے بس پھیر کے منہ خار قدم کھینچ رہے تھے دیکھا تو نہاں قافلۂ‌ ہم سفراں ہے چبھتے ہی بنی خار صفت پائے خزاں میں کیا کیجے بہت ہم کو غم لالہ رخاں ہے کام ...

    مزید پڑھیے

    یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں

    یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے میں عجب چیز محبت والے درد خود بنتے ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے نہ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگاہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے ...

    مزید پڑھیے

    ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

    ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو یہی تو ہیں جو ڈبویا کیے سفینوں کو جمال صبح دیا روئے نو بہار دیا مری نگاہ بھی دیتا خدا حسینوں کو ہماری راہ میں آئے ہزار مے خانے بھلا سکے نہ مگر ہوش کے قرینوں کو کبھی نظر بھی اٹھائی نہ سوئے بادۂ ناب کبھی چڑھا گئے پگھلا کے آبگینوں کو یہی جہاں ہے ...

    مزید پڑھیے

    جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں

    جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میں جیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میں ہو تیغ اثر زنجیر قدم پھر بھی ہیں نقیب منزل ہم زخموں سے چراغ راہ گزر بیٹھے ہیں جلائے زنداں میں صدچاک قبائے امن و سکوں عریاں ہے اہنسائی کا جنوں کچھ خوں سے شہیدوں نے اپنے وہ گل ہیں کھلائے ...

    مزید پڑھیے

    اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

    اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں موج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنم سب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں یار نکتہ داں کدھر ہے پھر چلیں اس کے حضور زندگی کو دل کہیں اور دل کو نذرانہ کہیں تھامیں اس بت کی کلائی اور کہیں اس کو جنوں چوم لیں ...

    مزید پڑھیے

    آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا

    آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا نہ سہی باب قفس روزن زنداں تو کھلا لے کے آئی تو صبا اس گل چینی کا پیام وہ سہی زخم کی صورت لب خنداں تو کھلا سیل رنگ آ ہی رہے گا مگر اے کشت چمن ضرب موسم تو پڑی بند بہاراں تو کھلا دل تلک پہنچے نہ پہنچے مگر اے چشم حیات بعد مدت کے ترا پنجۂ مژگاں تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4