مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر اڑی زلف چہرہ پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے وہی بات جو وہ نہ کہہ سکے مرے شعر و نغمہ میں آ گئی وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدح شراب میں ڈھل ...