جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے قد و گیسو سے اپنا سلسلہ دار و رسن تک ہے مگر اے ہم قفس کہتی ہے شوریدہ سری اپنی یہ رسم قید و زنداں ایک دیوار کہن تک ہے کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سے مرے قدموں کی گل کاری بیاباں سے چمن تک ہے میں کیا کیا جرعۂ خوں پی گیا پیمانۂ دل ...