Majrooh Sultanpuri

مجروح سلطانپوری

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

One of the most lyrical of ghazal poets associated with progressive movement.Outstanding film lyricist. Recipient of Dada Sahab Phalke award.

مجروح سلطانپوری کی غزل

    جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے

    جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے قد و گیسو سے اپنا سلسلہ دار و رسن تک ہے مگر اے ہم قفس کہتی ہے شوریدہ سری اپنی یہ رسم قید و زنداں ایک دیوار کہن تک ہے کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سے مرے قدموں کی گل کاری بیاباں سے چمن تک ہے میں کیا کیا جرعۂ خوں پی گیا پیمانۂ دل ...

    مزید پڑھیے

    مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتے

    مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتے جو ہر خوشی میں ترے غم کو بھی سمو دیتے کہاں وہ شب کہ ترے گیسوؤں کے سائے میں خیال صبح سے ہم آستیں بھگو دیتے بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے جو ...

    مزید پڑھیے

    سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن)

    سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی پیام زیرلبی کو صلائے عام کریں غلام رہ چکے توڑیں یہ بند رسوائی کچھ اپنے بازوئے محنت کا احترام کریں زمیں کو مل کے سنواریں مثال روئے نگار رخ نگار سے روشن چراغ بام کریں پھر اٹھ کے گرم کریں کاروبار زلف و جنوں پھر اپنے ساتھ اسے بھی اسیر دام کریں مری ...

    مزید پڑھیے

    یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

    یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں یوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیں کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دشت رہبر کہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش پا سے راہیں ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرا یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ تری ...

    مزید پڑھیے

    ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی

    ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی التفات سمجھوں یا بے رخی کہوں اس کو رہ گئی خلش بن کر اس کی کم نگاہی بھی اس نظر کے اٹھنے میں اس نظر کے جھکنے میں نغمۂ سحر بھی ہے آہ صبح گاہی بھی یاد کر وہ دن جس دن تیری سخت گیری پر اشک بھر کے اٹھی تھی میری بے ...

    مزید پڑھیے

    بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئے

    بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئے ہنسا ہے چاک پیراہن نہ کیوں چہرے پہ رنگ آئے بچاتے پھرتے آخر کب تلک دست عزیزاں سے انہیں کو سونپ کر ہم تو کلاہ نام و ننگ آئے ہنسو مت اہل دل اپنی سی جانو بزم خوباں میں چلے آئے ادھر ہم بھی بہت جب دل سے تنگ آئے کہاں صحن چمن میں بات کوئے سرفروشاں ...

    مزید پڑھیے

    آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے

    آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سے کام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سے عہد انقلاب آیا دور آفتاب آیا منتظر تھیں یہ آنکھیں جس کی اک زمانے سے اب زمین گائے گی ہل کے ساز پر نغمے وادیوں میں ناچیں گے ہر طرف ترانے سے اہل دل اگائیں گے خاک سے مہ و انجم اب گہر سبک ہوگا جو کے ایک دانے ...

    مزید پڑھیے

    دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ

    دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ ہے اب خزاں چمن میں نئے پیرہن کے ساتھ سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ کس نے کہا کہ ٹوٹ گیا خنجر فرنگ سینے پہ زخم نو بھی ہے داغ کہن کے ساتھ جھونکے جو لگ رہے ہیں نسیم بہار کے جنبش میں ہے قفس بھی اسیر چمن کے ...

    مزید پڑھیے

    جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں

    جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں میری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیں راہ گم کردہ ہوں کچھ اس کو خبر ہے کہ نہیں اس کی پلکوں پہ ستاروں کا گزر ہے کہ نہیں دل سے ملتی تو ہے اک راہ کہیں سے آ کر سوچتا ہوں یہ تری راہ گزر ہے کہ نہیں تیز ہو دست ستم دے بھی شراب اے ساقی تیغ گردن پہ سہی جام ...

    مزید پڑھیے

    چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے

    چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیے بس اک سکوت کا عالم جسے نوا کہیے اسیر بند زمانہ ہوں صاحبان چمن مری طرف سے گلوں کو بہت دعا کہیے یہی ہے جی میں کہ وہ رفتۂ تغافل و ناز کہیں ملے تو وہی قصۂ وفا کہیے اسے بھی کیوں نہ پھر اپنے دل زبوں کی طرح خراب کاکل و آوارۂ ادا کہیے یہ کوئے یار یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4