Majrooh Sultanpuri

مجروح سلطانپوری

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

One of the most lyrical of ghazal poets associated with progressive movement.Outstanding film lyricist. Recipient of Dada Sahab Phalke award.

مجروح سلطانپوری کی غزل

    سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں

    سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں اہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیں آ گئی فصل جنوں کچھ تو کرو دیوانو ابر صحرا کی طرف سایہ فگن جاتے ہیں اس کو دیکھا نہیں تم نے کہ یہی کوچہ و راہ شاخ گل شوخئ رفتار سے بن جاتے ہیں وہ اگر بات نہ پوچھے تو کریں کیا ہم بھی آپ ہی روٹھتے ہیں آپ ہی من جاتے ...

    مزید پڑھیے

    جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے

    جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتے ہم اس دنیا کے آگے اس جہاں کا غم تو کیا کرتے حرم سے مے کدے تک منزل یک عمر تھی ساقی سہارا گر نہ دیتی لغزش پیہم تو کیا کرتے جو مٹی کو مزاج گل عطا کر دیں وہ اے واعظ زمیں سے دور فکر جنت آدم تو کیا کرتے سوال ان کا جواب ان کا سکوت ان کا خطاب ان ...

    مزید پڑھیے

    وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیے

    وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیے دامن پہ رنگ پیرہن یار دیکھیے دکھلا کے وہ تو لے بھی گیا شوخی خرام اب تک ہیں رقص میں در و دیوار دیکھیے اکتا کے ہم نے توڑی تھی زنجیر نام و ننگ اب تک فضا میں ہے وہی جھنکار دیکھیے سینے میں چھپ گیا ہے طلوع سحر کے ساتھ اب شاخ دل پہ وہ گل رخسار ...

    مزید پڑھیے

    کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا

    کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا شام تنہائی کی ہے آئے گی منزل کیسے جو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا نہ رہا اے نظارو نہ ہنسو مل نہ سکوں گا تم سے تم مرے ہو نہ سکے میں بھی تمہارا نہ رہا کیا بتاؤں میں کہاں یوں ہی چلا جاتا ہوں جو مجھے پھر سے بلا لے وہ ...

    مزید پڑھیے

    اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

    اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں اسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریں فریب کھا کے ان آنکھوں کا کب تلک اے دل شراب خام پئیں رقص نا تمام کریں غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں نہ مانگوں بادۂ گلگوں سے بھیک مستی کی اگر ترے لب لعلیں مرا یہ کام کریں نہ ...

    مزید پڑھیے

    تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

    تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں آپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیں یہ محفل اہل دل ہے یہاں ہم سب مے کش ہم سب ساقی تفریق کریں انسانوں میں اس بزم کا یہ دستور نہیں جنت بہ نگہ تسنیم بہ لب انداز اس کے اے شیخ نہ پوچھ میں جس سے محبت کرتا ہوں انساں ہے خیالی حور ...

    مزید پڑھیے

    ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح

    ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح اس کوئے تشنگی میں بہت ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس پھرتی ہے کوئی شے نگہ یار کی طرح سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں خم ہو گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح بے تیشہ نظر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4