سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں
سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں اہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیں آ گئی فصل جنوں کچھ تو کرو دیوانو ابر صحرا کی طرف سایہ فگن جاتے ہیں اس کو دیکھا نہیں تم نے کہ یہی کوچہ و راہ شاخ گل شوخئ رفتار سے بن جاتے ہیں وہ اگر بات نہ پوچھے تو کریں کیا ہم بھی آپ ہی روٹھتے ہیں آپ ہی من جاتے ...