Majid-ul-Baqri

ماجد الباقری

  • 1928 - 1995

ماجد الباقری کی غزل

    جب پلک جھپکے تو منظر کا ورق بن جائے ہے

    جب پلک جھپکے تو منظر کا ورق بن جائے ہے دل میں کچھ آئے نظر باہر نظر کچھ آئے ہے چپ کا سیدھا پیڑ ہے بولو تو جھکتا جائے ہے ہائے چھونے کی تمنا جو مجھے تڑپائے ہے سردیوں کی لمبی راتیں اوڑھ کر سو جائے ہے دن کے سورج کے خیالوں ہی سے دل گرمائے ہے یاد کی خوشبو سے اپنے جسم کو مہکائے ہے وہ پری ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے

    آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے دیکھنے میں روشنی ہی روشنی ہے سوکھے پتے سب اکٹھے ہو گئے ہیں راستے میں ایک دیوار آ گئی ہے غم کا ریلا ذہن ہی کو لے اڑا ہے سوچئے تو آندھیوں کی کیا کمی ہے چلّو چلّو روشنی کو پی رہا ہوں موج دریا قطرہ قطرہ چاندنی ہے رات میں دھنکا ہوا سورج پڑا تھا دن میں ...

    مزید پڑھیے

    قید تنہائی سے قید عمر میں آ جاؤں گا

    قید تنہائی سے قید عمر میں آ جاؤں گا فرق اتنا ہے کہ کھانا اپنے گھر کا کھاؤں گا سانس کی زنجیر نے جکڑے ہیں میرے ہاتھ پاؤں اپنی مرضی سے کوئی میں کام کیا کر پاؤں گا یہ اندھیری رات اور بے سمت صحرا کا سفر دشمنوں سے بچ گیا تو خود بھی ٹھوکر کھاؤں گا آنکھ سے دیکھوں گا جب میں ہلتے ہونٹوں ...

    مزید پڑھیے

    جب جدا پیڑوں سے کٹ کر ڈالی ڈالی ہو گئی

    جب جدا پیڑوں سے کٹ کر ڈالی ڈالی ہو گئی اک تیرے جنگل کی ماجد گود خالی ہو گئی کوئی موسم ہو بہ ہر صورت ہوا چلتی رہی بڑھ گیا اتنا دھواں ہر شکل کالی ہو گئی میرے چہرے پر لکھی تھیں سرخیاں اخبار کی جو بھی صورت سامنے آئی سوالی ہو گئی ہیں وہی الفاظ لیکن وہ معانی ہی نہیں بات صلح و آشتی کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ زرد چہرہ معطر نگاہ جیسا تھا

    وہ زرد چہرہ معطر نگاہ جیسا تھا ہوا کا روپ تھا بولو تو آہ جیسا تھا علیل وقت کی پوشاک تھا بخار اس کا وہ ایک جسم تھا لیکن کراہ جیسا تھا بھٹک رہا تھا اندھیرے میں درد کا دریا وہ ایک رات کا جگنو تھا راہ جیسا تھا گلی کے موڑ پہ ٹھہرا ہوا تھا اک سایہ لباس چپ کا بدن پر نباہ جیسا تھا چلا ...

    مزید پڑھیے

    مجھی سے پوچھ رہا تھا مرا پتا کوئی

    مجھی سے پوچھ رہا تھا مرا پتا کوئی بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی خموشیوں کی چٹانوں کو توڑنے کے لیے کسی کے پاس نہیں تیشۂ صدا کوئی درخت ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے مرے جنوں کا مبارک تھا مرحلہ کوئی سمجھ سکا نہ مگر کوئی پتھروں کی زباں ہر ایک لمحہ لگا بولتا ہوا کوئی یہ بند لب ...

    مزید پڑھیے

    اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے

    اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے سائکلیں ٹکرا جاتی ہیں اکثر موٹر سے اندھیارے میں ہنستے روتے کالے گیت سنے جو سورج کے آگے آئے وہ آخر چمکے دن کے ورق پر انساں کیا تھے آڑے ترچھے لفظ رات ہوئی تو دیکھ رہا ہوں کاغذ پر نقطے میں بکھرے لمحے کا موتی صدیوں سے مربوط میرے جسم سے ہو کر گزرے ...

    مزید پڑھیے

    چاند کی کرنوں کی چادر نے سب کے روپ چھپائے ہیں

    چاند کی کرنوں کی چادر نے سب کے روپ چھپائے ہیں آنکھوں والے سب ہی جا کر نگری سے لوٹ آئے ہیں تاریکی کا نام ہو روشن آگے پیچھے ایک دیا روشنیوں کے ویرانے میں آگے پیچھے سائے ہیں کرنوں کے دھاگوں کو سمیٹے اون کا گولا ڈوب گیا ننگی دھرتی لمبی راتیں دیکھ کے ہم تھرائے ہیں جھاڑی جھاڑی سونگھ ...

    مزید پڑھیے

    سپنے کی وادی کو تج کر روپ نگر میں آیا کر

    سپنے کی وادی کو تج کر روپ نگر میں آیا کر دن کے پھیلے کاغذ پر اپنی تصویر بنایا کر دھوپ کڑی ہے ننگا سر ہی صحراؤں سے گزروں گا اپنے دوپٹے کے پلو کا میرے سر پر سایا کر ایک سمندر کی موجوں کو ایک بھنور میں رہنے دے نیلی آنکھوں کے ساگر کو ایسے مت چھلکایا کر ہونٹ کی سرخی جھانک اٹھتی ہے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں کا قصور کچھ نہیں ہے (ردیف .. ن)

    آنکھوں کا قصور کچھ نہیں ہے جسموں سے غلاف ہٹ گئے ہیں جو بال کی کھال اتارتے تھے صحراؤں میں گھاس کاٹتے ہیں ہم لوگ تو ہو گئے ہیں پاگل خوابوں کی کتاب لکھ رہے ہیں انسان میں کیا بھرا ہوا ہے ہونٹوں سے دماغ تک سلے ہیں یہ کیسے زبان سے ادا ہوں خاکے جو دلوں میں ان کہے ہیں

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2