Majid-ul-Baqri

ماجد الباقری

  • 1928 - 1995

ماجد الباقری کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    جب پلک جھپکے تو منظر کا ورق بن جائے ہے

    جب پلک جھپکے تو منظر کا ورق بن جائے ہے دل میں کچھ آئے نظر باہر نظر کچھ آئے ہے چپ کا سیدھا پیڑ ہے بولو تو جھکتا جائے ہے ہائے چھونے کی تمنا جو مجھے تڑپائے ہے سردیوں کی لمبی راتیں اوڑھ کر سو جائے ہے دن کے سورج کے خیالوں ہی سے دل گرمائے ہے یاد کی خوشبو سے اپنے جسم کو مہکائے ہے وہ پری ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے

    آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے دیکھنے میں روشنی ہی روشنی ہے سوکھے پتے سب اکٹھے ہو گئے ہیں راستے میں ایک دیوار آ گئی ہے غم کا ریلا ذہن ہی کو لے اڑا ہے سوچئے تو آندھیوں کی کیا کمی ہے چلّو چلّو روشنی کو پی رہا ہوں موج دریا قطرہ قطرہ چاندنی ہے رات میں دھنکا ہوا سورج پڑا تھا دن میں ...

    مزید پڑھیے

    قید تنہائی سے قید عمر میں آ جاؤں گا

    قید تنہائی سے قید عمر میں آ جاؤں گا فرق اتنا ہے کہ کھانا اپنے گھر کا کھاؤں گا سانس کی زنجیر نے جکڑے ہیں میرے ہاتھ پاؤں اپنی مرضی سے کوئی میں کام کیا کر پاؤں گا یہ اندھیری رات اور بے سمت صحرا کا سفر دشمنوں سے بچ گیا تو خود بھی ٹھوکر کھاؤں گا آنکھ سے دیکھوں گا جب میں ہلتے ہونٹوں ...

    مزید پڑھیے

    جب جدا پیڑوں سے کٹ کر ڈالی ڈالی ہو گئی

    جب جدا پیڑوں سے کٹ کر ڈالی ڈالی ہو گئی اک تیرے جنگل کی ماجد گود خالی ہو گئی کوئی موسم ہو بہ ہر صورت ہوا چلتی رہی بڑھ گیا اتنا دھواں ہر شکل کالی ہو گئی میرے چہرے پر لکھی تھیں سرخیاں اخبار کی جو بھی صورت سامنے آئی سوالی ہو گئی ہیں وہی الفاظ لیکن وہ معانی ہی نہیں بات صلح و آشتی کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ زرد چہرہ معطر نگاہ جیسا تھا

    وہ زرد چہرہ معطر نگاہ جیسا تھا ہوا کا روپ تھا بولو تو آہ جیسا تھا علیل وقت کی پوشاک تھا بخار اس کا وہ ایک جسم تھا لیکن کراہ جیسا تھا بھٹک رہا تھا اندھیرے میں درد کا دریا وہ ایک رات کا جگنو تھا راہ جیسا تھا گلی کے موڑ پہ ٹھہرا ہوا تھا اک سایہ لباس چپ کا بدن پر نباہ جیسا تھا چلا ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردو

    زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردو زبان شعر میں فطرت کا اک انعام ہے اردو سبھی اس کو سمجھتے ہیں سبھی میں عام ہے اردو زباں کوئی بھی ہو ہر ایک کا انجام ہے اردو گئے وہ دن کہ جب کچھ لوگ ہی اس کو سمجھتے تھے زبانوں میں ابھر آئی ہے طشت از بام ہے اردو کہیں ہے ابتدا اس کی کہیں ہے انتہا ...

    مزید پڑھیے