زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردو
زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردو زبان شعر میں فطرت کا اک انعام ہے اردو سبھی اس کو سمجھتے ہیں سبھی میں عام ہے اردو زباں کوئی بھی ہو ہر ایک کا انجام ہے اردو گئے وہ دن کہ جب کچھ لوگ ہی اس کو سمجھتے تھے زبانوں میں ابھر آئی ہے طشت از بام ہے اردو کہیں ہے ابتدا اس کی کہیں ہے انتہا ...