Majid-ul-Baqri

ماجد الباقری

  • 1928 - 1995

ماجد الباقری کی غزل

    یہ زور و شور سر آبشار کیسا ہے

    یہ زور و شور سر آبشار کیسا ہے خموش کب سے ہے یہ کوہسار کیسا ہے کوئی ہے اور بھی آئے گا جو اسی جیسا وہ آ چکا ہے مگر انتظار کیسا ہے جو چاہتے ہیں کسی کو یہاں نہ آنے دیں بتاؤ شہر طلب میں حصار کیسا ہے یہ کیسی شاخ کے پیوند ہیں درختوں پر یہ کیسے پھل ہیں یہ رنگ بہار کیسا ہے ہمیشہ سوچ سے کم ...

    مزید پڑھیے

    سوچ کے بے سمت دروازوں پہ جب پتھر لگا

    سوچ کے بے سمت دروازوں پہ جب پتھر لگا میں سمٹ کر اڑ گیا خالی بدن کا گھر لگا گھورتی ہیں ہر طرف بے نور آنکھیں کس لیے آئینہ خانے میں اندھے سے کہو چکر لگا یاد میں کپڑے بدلنے کے لیے مجھ سے چھپا وہ کہیں بھی تھا مجھے کچھ دیر دریا پر لگا جن منڈیروں سے کبوتر جھانکتے تھے رات دن اتنی اونچی ...

    مزید پڑھیے

    بات کرنا ہے کرو سامنے اتراؤ نہیں

    بات کرنا ہے کرو سامنے اتراؤ نہیں جو نہیں جانتے اس بات کو سمجھاؤ نہیں میں وہ سمجھا ہوں بیاں تم سے جو ہوگا نہ کبھی بے ضرر ہوں مرے اس کشف سے گھبراؤ نہیں اس ترنم میں تو مفہوم نہیں ہے کوئی شعر کہتے ہو تو پڑھ ڈالو مگر گاؤ نہیں بند آنکھوں میں بکھر جاتے ہیں بجتے ہوئے رنگ مجھ سے اندھے کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2