قید تنہائی سے قید عمر میں آ جاؤں گا
قید تنہائی سے قید عمر میں آ جاؤں گا
فرق اتنا ہے کہ کھانا اپنے گھر کا کھاؤں گا
سانس کی زنجیر نے جکڑے ہیں میرے ہاتھ پاؤں
اپنی مرضی سے کوئی میں کام کیا کر پاؤں گا
یہ اندھیری رات اور بے سمت صحرا کا سفر
دشمنوں سے بچ گیا تو خود بھی ٹھوکر کھاؤں گا
آنکھ سے دیکھوں گا جب میں ہلتے ہونٹوں کی صدا
میں بھی بہرا ہو گیا ہوں زور سے چلاؤں گا
نار اب گلزار ہونے کے زمانے ختم ہیں
بھیک مانگوں گا خدا سے گیت سب کے گاؤں گا
ضابطہ کوئی نہیں ہے بارشوں پر منحصر
کھیت کے بیجوں میں ماجدؔ پھول پھل لے آؤں گا