Maikash Akbarabadi

میکش اکبرآبادی

میکش اکبرآبادی کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں

    یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں ہنسے بھی زندگی میں ہم بہت ہیں تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں نہیں ہے منحصر کچھ فصل گل پر جنوں کے اور بھی موسم بہت ہیں غبار آلودہ چہروں پر نہ جانا انہیں میں کیقباد و جم بہت ہیں مجھے کچھ ساز ہے نشتر سے ورنہ مرے زخموں ...

    مزید پڑھیے

    مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا

    مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا یہاں تو ہو رہی ہے داستاں سے داستاں پیدا وہی ہے ایک مستی سی وہاں نظروں میں یاں دل میں وہی ہے ایک شورش ہی وہاں پنہاں یہاں پیدا تو اپنا کارواں لے چل نہ کر غم میرے ذروں کا انہیں ذروں سے ہو جائے گا پھر سے کارواں پیدا مری عمریں سمٹ آئی ہیں ان کے ...

    مزید پڑھیے

    یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے

    یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے کدھر چلے ہیں اندھیرے یہ ہاتھ پھیلائے خدا کرے کوئی شمعیں لیے چلا آئے دھڑک رہے ہیں مرے دل میں شام کے سائے کہاں وہ اور کہاں میری پر خطر راہیں مگر وہ پھر بھی مرے ساتھ دور تک آئے میں اپنے عہد میں شمع مزار ہو کے رہا کبھی نہ دیکھ سکے مجھ کو میرے ہم ...

    مزید پڑھیے

16 نظم (Nazm)

    بھکارن

    پوپلا منہ ہل رہا ہے جھریوں کے ساتھ ساتھ بوجھ لاٹھی کا لئے تھرا رہا ہے نرم ہاتھ ملگجی ساڑی کے دامن میں ہے تھیلی پان کی سہہ رہی ہے گالیاں دہلیز پر دربان کی یاس سے جھکتی ہے دروازے سے ٹکرا کر نظر مانگتی ہے ایک پیسہ وہ بھی اللہ نام پر اس جہاں میں کوئی اس کا پالنے والا نہیں اس کے منہ ...

    مزید پڑھیے

    اقبالؔ

    سونے والوں کو پیام صبح نو دیتی ہوئی خواب کی دنیا اٹھی انگڑائیاں لیتی ہوئی مطلع مشرق پہ چمکا آفتاب‌ شاعری ہر کرن جس کی بنی تار رباب شاعری دل پہ تھا جو داغ غفلت اس کو آہیں دھو گئیں خون مشرق میں ہزاروں بجلیاں حل ہو گئیں ضبط کے زخم نہاں فریاد سے بھرنے لگے یعنی بندے بھی خدا سے ...

    مزید پڑھیے

    اقبال کا شعر

    ایمان کی تفسیر قلندر کا ترانہ سمجھے تو پلٹ آئے بلندی پہ زمانہ بے باک نگاہوں کا فلک بوس اشارہ سنگین چٹانوں سے گزرتا ہوا دھارا بے تابئ فطرت کی سکوں بخش کہانی شعلوں سے بنائی ہوئی شبنم کی روانی اشکوں میں نہائی ہوئی اک موج تبسم ملاح کا گرداب میں جس طرح ترنم الہام میں تکمیل حقیقت ...

    مزید پڑھیے

    عید

    اے جمال دوست تیری دید ہونی چاہئے غم زدوں کی بھی تو آخر عید ہونی چاہئے جب نہیں ہے آپ کو ترک تعلق کا خیال آپ ہی کے قول سے تردید ہونی چاہئے مانتا ہوں میں کہ بے شک قول کے سچے ہیں آپ لیکن اپنے عہد کی تجدید ہونی چاہئے میری جانب سے سہی تحریک تکمیل وفا لیکن اس کو آپ کی تائید ہونی ...

    مزید پڑھیے

    ولیؔ

    اے دکن کی سر زمیں اے قبلۂ ہندوستاں تیرے ذرے مہر ہیں تیری زمیں ہے آسماں عظمت ماضی کا دل افروز نظارہ ہے تو مشرق‌ تہذیب کا پاکیزہ گہوارہ ہے تو تیرے ہر پہلو میں ہیں احساس کی بیداریاں تیرے ہر منظر میں ہیں جذبات کی سرشاریاں ہے خزاں نا آشنا تیرے گلستاں کی بہار تجھ پہ ہے سایہ فگن ...

    مزید پڑھیے

تمام