Mahtab Haider Naqvi

مہتاب حیدر نقوی

مہتاب حیدر نقوی کی غزل

    پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی

    پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی خوش امیدی کو لیے باد بہاری آئی پھول آئے ہیں نئی رت کے نئی شاخوں پر موجۂ ماہ دل آرام کی باری آئی نامرادانہ کہیں عمر بسر ہوتی ہے شاد کامی کے لیے یاد تمہاری آئی اور پھر پھیل گیا رنگ محبت رخ پر لالۂ زخم لیے یار کی یاری آئی اک دن ہم نے زباں کھول ...

    مزید پڑھیے

    مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں

    مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں یہ شعر طبیعت کی روانی کے لیے ہیں وہ چشم اگر سحر بیانی کے لیے ہے یہ لب بھی مری تشنہ دہانی کے لیے ہیں جو میرے شب و روز میں شامل ہی نہیں تھے کردار وہی میری کہانی کے لیے ہیں یہ داغ محبت کی نشانی کے علاوہ اے عشق تری مرثیہ خوانی کے لیے ہیں آتی ہے ...

    مزید پڑھیے

    مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

    مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے ان نظاروں کو کوئی دیکھے کہ حیرانی کرے دھوپ میں ان آبگینوں کو لیے پھرتا ہوں میں کوئی سایہ میرے خوابوں کی نگہبانی کرے ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے رات ایسی چاہیئے مانگے جو دن بھر کا حساب خواب ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی

    ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی تمہیں بتاؤ کہ ہے کس کے پاس تنہائی اسے بھی اب کے بہت رنج نارسائی ہے کھڑی ہے شہر کی سرحد کے پاس تنہائی اسی لیے تو نہ صحرا میں ہے نہ بستی میں کہ ہو نہ جائے کہیں بے لباس تنہائی طویل ہجر نے دونوں کو یوں خراب کیا کہ اس کے پاس نہ اب میرے پاس ...

    مزید پڑھیے

    اسے بھلائے ہوئے مجھ کو اک زمانہ ہوا

    اسے بھلائے ہوئے مجھ کو اک زمانہ ہوا کہ اب تمام مرے درد کا فسانہ ہوا ہوا بدن مرا دشمن عدو ہوئی مری روح میں کس کے دام میں آیا ہوس نشانہ ہوا یہی چراغ جو روشن ہے بجھ بھی سکتا تھا بھلا ہوا کہ ہواؤں کا سامنا نہ ہوا کہ جس کی صبح مہکتی تھی شام روشن تھی سنا ہے وہ در دولت غریب خانہ ہوا وہ ...

    مزید پڑھیے

    اہل دنیا دیکھتے ہیں کتنی حیرانی کے ساتھ

    اہل دنیا دیکھتے ہیں کتنی حیرانی کے ساتھ زندگی ہم نے بسر کر لی ہے نادانی کے ساتھ اک تمناؤں کا بحر بیکراں تھا اور ہم کشتیٔ جاں کو بچا لائے ہیں آسانی کے ساتھ اب کسے دل کے دھڑکنے کی صدائیں یاد ہیں یہ بھی ہنگامہ گیا اس گھر کی ویرانی کے ساتھ اے ہوا تو نے تو سارے معرکے سر کر لیے صبح ...

    مزید پڑھیے

    کس و ناکس ہیں بہت دست طلب کے آگے

    کس و ناکس ہیں بہت دست طلب کے آگے سر پندار جھکا جاتا ہے سب کے آگے مجھ سے وابستہ ازل سے ہے یہی موج سراب کب سے میں تشنہ دہن ہوں ترے لب کے آگے اپنے سورج کو بھلا کس کے مقابل رکھئے ماند پڑ جاتے ہیں سب تاب کے تب کے آگے آج بھی ہوں میں اسی گریۂ شب میں محصور جن کو جانا تھا وہ سب جا چکے کب کے ...

    مزید پڑھیے

    ایک پل میں دم گفتار سے لب تر ہو جائے

    ایک پل میں دم گفتار سے لب تر ہو جائے تجھ سے جو بات بھی کر لے وہ سخن ور ہو جائے اب یہاں صرف پری چہرہ رہیں گے آ کر اور کوئی ان کے علاوہ ہے تو باہر ہو جائے ہو گیا رشتۂ جاں پھر دل نادان کے ساتھ اس سپاہی کی تمنا ہے کہ لشکر ہو جائے اب کے ٹھہرائی ہے ہم نے بھی یہی شرط وفا جو بھی اس شہر میں ...

    مزید پڑھیے

    یہ زمیں وہ آسماں ایسا نہ تھا

    یہ زمیں وہ آسماں ایسا نہ تھا اس طرح دریا کبھی بہتا نہ تھا زخم بھی اتنے ہرے پہلے نہ تھے یہ چمن گل رنگ بھی ایسا نہ تھا سر برہنہ سورجوں کے ساتھ تھے یوں خیال یار بے سایہ نہ تھا اک ستارہ دل میں روشن تھا مگر آنکھ نے اس کو کبھی دیکھا نہ تھا اس طرف ہی دیکھتا رہتا تھا میں وہ دریچہ دیر تک ...

    مزید پڑھیے

    نئے سفر کی لذتوں سے جسم و جاں کو سر کرو

    نئے سفر کی لذتوں سے جسم و جاں کو سر کرو سفر میں ہوں گی برکتیں سفر کرو سفر کرو اداس رات کے گداز جسم کو ٹٹول کر کسی کی زلف سایہ دار کی گرہ میں گھر کرو جو آنکھ ہو تو دیکھ تو سراب ہی سراب ہے نہ اعتبار تشنگی میں موج آب پر کرو پرانی آستین سے پرانے بت کرو رہا نئی زمین پر نئے خدا کو معتبر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4