Mahtab Haider Naqvi

مہتاب حیدر نقوی

مہتاب حیدر نقوی کے تمام مواد

32 غزل (Ghazal)

    زندگی کیا ہے بجز وہم و گماں میرے لئے

    زندگی کیا ہے بجز وہم و گماں میرے لئے یہ زمیں جب ہو گئی بے آسماں میرے لئے وہ بدن صحرا بڑھا دیتا ہے پہلے میری پیاس اور بن جاتا ہے پھر آب رواں میرے لئے موسم دل نے بکھیرے دل کے باہر اپنے رنگ رنگ گل اس کے لئے رنگ خزاں میرے لئے شہر میں لگتی ہے پھر اک روز بجھ جاتی ہے آگ چھوڑ جاتی ہے مگر ...

    مزید پڑھیے

    اگر کوئی خلش جاوداں سلامت ہے

    اگر کوئی خلش جاوداں سلامت ہے تو پھر جہاں میں یہ طرز فغاں سلامت ہے ابھی تو بچھڑے ہوئے لوگ یاد آئیں گے ابھی تو درد دل رائگاں سلامت ہے اگرچہ اس کے نہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا ہمارے سر پہ مگر آسماں سلامت ہے سبھی کو شوق شہادت تو ہو گیا ہے مگر کسی کے دوش پہ سر ہی کہاں سلامت ہے ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا

    دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا ساز دل نغمۂ دلگیر بنانے میں گیا رات اک خواب جو دیکھا تو ہوا یہ معلوم دن بھی اس خواب کی تصویر بنانے میں گیا پرتو خانۂ موہوم غنیمت تھا مگر وہ بھی اک نقشۂ تعمیر بنانے میں گیا روح تو روح ہے کچھ بس نہیں اس پر لیکن یہ بدن خاک کو اکسیر بنانے میں ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے شکوہ نہ کوئی رنج ہے تنہائی کا

    تجھ سے شکوہ نہ کوئی رنج ہے تنہائی کا تھا مجھے شوق بہت انجمن آرائی کا کچھ تو آشوب ہوا اور ہوس کی ہے شکار اور کچھ کام بڑھا ہے مری بینائی کا آئی پھر نافۂ امروز سے خوشبوئے وصال کھل گیا پھر کوئی در بند پذیرائی کا میں نے پوشیدہ بھی کر رکھا ہے در پردۂ شعر اور بھرم کھل بھی گیا ہے مری ...

    مزید پڑھیے

    کن موسموں کے یارو ہم خواب دیکھتے ہیں

    کن موسموں کے یارو ہم خواب دیکھتے ہیں جنگل پہاڑ دریا تالاب دیکھتے ہیں اس آسماں سے آگے اک اور آسماں پر مہتاب سے جدا اک مہتاب دیکھتے ہیں کل جس جگہ پڑا تھا پانی کا کال ہم پر آج اس جگہ لہو کا سیلاب دیکھتے ہیں اس گل پہ آ رہی ہیں سو طرح کی بہاریں ہم بھی ہزار رنگوں کے خواب دیکھتے ...

    مزید پڑھیے

تمام