یہ زمیں وہ آسماں ایسا نہ تھا

یہ زمیں وہ آسماں ایسا نہ تھا
اس طرح دریا کبھی بہتا نہ تھا


زخم بھی اتنے ہرے پہلے نہ تھے
یہ چمن گل رنگ بھی ایسا نہ تھا


سر برہنہ سورجوں کے ساتھ تھے
یوں خیال یار بے سایہ نہ تھا


اک ستارہ دل میں روشن تھا مگر
آنکھ نے اس کو کبھی دیکھا نہ تھا


اس طرف ہی دیکھتا رہتا تھا میں
وہ دریچہ دیر تک کھلتا نہ تھا


ایک ہی صحرا کے باسی تھے سبھی
کوئی اپنا کوئی بیگانہ نہ تھا


ہر طرف تاریک تھی دنیا مگر
اک چراغ دل تھا جو بجھتا نہ تھا