Mahtab Haider Naqvi

مہتاب حیدر نقوی

مہتاب حیدر نقوی کی غزل

    ہجر کی منزل ہمیں اب کے پسند آئی نہیں

    ہجر کی منزل ہمیں اب کے پسند آئی نہیں ہم اکیلے ہیں مگر ہم راہ تنہائی نہیں ایک دن چھن جائے گا آنکھوں سے سارا رنگ و نور دیکھ لو ان کو کہ یہ منظر ہمیشائی نہیں اک جنوں کے واسطے بستی کو وسعت دی گئی ایک وحشت کے لیے صحرا میں پہنائی نہیں کون سے منظر کی تابانی اندھیرا کر گئی ایسا کیا ...

    مزید پڑھیے

    یہ جہاں خوب ہے سب اس کے نظارے اچھے

    یہ جہاں خوب ہے سب اس کے نظارے اچھے اس سے بڑھ کر ہیں اسے چاہنے والے اچھے ایک ہی دوڑ میں شامل ہوں سبھی لوگ تو پھر سارے اغیار بھلے ہیں سبھی اپنے اچھے آج بھی تیری حمایت ہے کہ اے موج بلا چشم نمناک بھلی خون کے دھارے اچھے کس کی تعریف کریں کس کے قصیدے لکھیں نفس مضمون سے بڑھ کر ہیں حوالے ...

    مزید پڑھیے

    اسی درد آشنا دل کی طرف داری میں رہتے ہیں

    اسی درد آشنا دل کی طرف داری میں رہتے ہیں ہم اپنے آپ میں گم اپنی غم خواری میں رہتے ہیں یونہی ہم رفتہ رفتہ دل گرفتہ ہوتے جائیں گے کہ ہم اپنے غموں کی ناز برداری میں رہتے ہیں یہ دنیا ہم نے دنیا دار کی آنکھوں سے دیکھی ہے مگر اے دل ہم اپنی ہی عمل داری میں رہتے ہیں ہمارے سکھ بہت کم اور ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے گھر نہ ماہ و سال کے موسم میں رہتے ہیں

    کسی کے گھر نہ ماہ و سال کے موسم میں رہتے ہیں کہ ہم ہجر و وصال یار کے عالم میں رہتے ہیں وہی گلگوں قبائے یار ہے نظارۂ حیرت اسی نا مہرباں کے گیسوئے پر خم میں رہتے ہیں وہی پیاسی زمیں ہے حلقۂ زنجیر کی صورت وہی اک آسماں جس کے تلے شبنم میں رہتے ہیں ہمیں یہ رنگ و بو کی بات اب اچھی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    محو نظارۂ حیرت ہے ہوا پہلی بار

    محو نظارۂ حیرت ہے ہوا پہلی بار مجھ پہ دروازۂ مہتاب کھلا پہلی بار ہجر کی شب سے بہت دور سر مطلع شوق اب کے تنہائی میں وہ مجھ سے ملا پہلی بار اب نہ احسان کریں مجھ پہ یہ کالی راتیں اس اندھیرے میں جلا کوئی دیا پہلی بار اب دھنک رنگ بہت صاف نظر آتے ہیں اپنے آئینہ میں آئی ہے جلا پہلی ...

    مزید پڑھیے

    تیرا چہرہ نہ مرا حسن نظر ہے سب کچھ

    تیرا چہرہ نہ مرا حسن نظر ہے سب کچھ ہاں مگر درد دل خاک بسر ہے سب کچھ میرے خوابوں سے الگ میرے سرابوں سے جدا اس محبت میں کوئی وہم مگر ہے سب کچھ بات تو تب ہے کہ تو بھی ہو مقابل میرے جان من پھر ترا خنجر مرا سر ہے سب کچھ تیری مرضی ہے اسے چاہے تو سیراب کرے اس بیاباں کو تری ایک نظر ہے سب ...

    مزید پڑھیے

    آؤ یہ خاموشی توڑیں آئینے سے بات کریں

    آؤ یہ خاموشی توڑیں آئینے سے بات کریں تھوڑی حیرت آنکھ میں بھر لیں تھوڑی سی خیرات کریں ہجر و وصال کے رنگ تھے جتنے تاریکی میں ڈوب گئے تنہائی کے منظر میں اب کون سا کار حیات کریں دیکھو اس کے بعد آئے گی اور اندھیری کالی رات دھوپ کے ان ٹکڑوں کو چن لیں جمع یہی ذرات کریں پیاسوں کے جھرمٹ ...

    مزید پڑھیے

    اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں

    اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں اور پھر نالہ و فریاد بھی ہم کرتے ہیں ایک دنیا مری آباد ہے جن سے وہی خواب کبھی پسپا کبھی برباد بھی ہم کرتے ہیں خانۂ جسم میں ہنگامہ مچا رکھا ہے لے مری جاں تجھے آزاد بھی ہم کرتے ہیں اپنے احباب پہ کرتے ہیں دل و جان نثار اور اکثر انہیں نا شاد بھی ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے خواب سے باقی نہ بیداری سے قائم ہے

    کسی کے خواب سے باقی نہ بیداری سے قائم ہے جہان درد بس میری ادا کاری سے قائم ہے زباں سے کچھ نہیں کہتے سو دل کو ہول آتا ہے کہ یہ شہر ہوس کس کی دل آزاری سے قائم ہے جہاں میں بے ہنر لوگوں کو کوئی کیسے سمجھائے کہ یہ دنیا ابھی تک کار بے کاری سے قائم ہے خزاں کے گیت تو ہم لوگ کب سے گاتے آئے ...

    مزید پڑھیے

    ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا

    ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا پھر اس کے بعد ہی وہ کوچۂ دل دار آئے گا وطن کی ایک تصویر خیالی سب بناتے ہیں خبر لیکن نہیں کیا اس میں کوئے یار آئے گا گل شاخ محبت پر لہو کا رنگ کھلتا ہے کہ اب رنگ حنا ذکر لب و رخسار آئے گا ہمارے واسطے بھی ساعت ہموار ٹھہرے گی کہ راہ شوق میں جس دم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4