پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی

پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی
خوش امیدی کو لیے باد بہاری آئی


پھول آئے ہیں نئی رت کے نئی شاخوں پر
موجۂ ماہ دل آرام کی باری آئی


نامرادانہ کہیں عمر بسر ہوتی ہے
شاد کامی کے لیے یاد تمہاری آئی


اور پھر پھیل گیا رنگ محبت رخ پر
لالۂ زخم لیے یار کی یاری آئی


اک دن ہم نے زباں کھول دی سچ کہنے کو
اور پھر شامت اعمال ہماری آئی


ہوس عشق کے احوال بہم کرنے کو
پردۂ شعر میں افسانہ نگاری آئی