Mahtab Haider Naqvi

مہتاب حیدر نقوی

مہتاب حیدر نقوی کی غزل

    حوصلہ اتنا ابھی یار نہیں کر پائے

    حوصلہ اتنا ابھی یار نہیں کر پائے خود کو رسوا سر بازار نہیں کر پائے دل میں کرتے رہے دنیا کے سفر کا ساماں گھر کی دہلیز مگر پار نہیں کر پائے ہم کسی اور کے ہونے کی نفی کیا کرتے اپنے ہونے پہ جب اصرار نہیں کر پائے ساعت وصل تو قابو میں نہیں تھی لیکن ہجر کی شب کا بھی دیدار نہیں کر ...

    مزید پڑھیے

    ایک طوفان کا سامان بنی ہے کوئی چیز

    ایک طوفان کا سامان بنی ہے کوئی چیز ایسا لگتا ہے کہیں چھوٹ گئی ہے کوئی چیز سب کو اک ساتھ بہائے لیے جاتا ہے یہ سیل وہ تلاطم ہے کہ اچھی نہ بری ہے کوئی چیز ایک میں کیا کہ مہ و سال اڑے جاتے ہیں اے ہوا تجھ سے زمانے میں بچی ہے کوئی چیز عشق نے خود رخ گلنار کو بخشا ہے فروغ ورنہ کب اپنے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4