مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی
مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی ویرانی سے اب کام ہے اور ویرانی کس کی یار ہوئی ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں اس بارش ہی سے فصل اجڑی جس بارش سے تیار ہوئی ڈر ڈر کے قدم یوں رکھتا ہوں خوابوں کے صحرا میں جیسے یہ ریگ ابھی زنجیر بنی یہ چھاؤں ابھی دیوار ...