Mahshar Badayuni

محشر بدایونی

محشر بدایونی کی غزل

    مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی

    مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی ویرانی سے اب کام ہے اور ویرانی کس کی یار ہوئی ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں اس بارش ہی سے فصل اجڑی جس بارش سے تیار ہوئی ڈر ڈر کے قدم یوں رکھتا ہوں خوابوں کے صحرا میں جیسے یہ ریگ ابھی زنجیر بنی یہ چھاؤں ابھی دیوار ...

    مزید پڑھیے

    پا بجولاں عرصۂ سرو و صبا میں آئے ہیں

    پا بجولاں عرصۂ سرو و صبا میں آئے ہیں ہم بھی کچھ نغمے لئے شہر نوا میں آئے ہیں ہم خس و خاشاک آوارہ گزر گاہوں کا بوجھ رقص کرنے تیرے کوچے کی ہوا میں آئے ہیں یہ فشار گرد و ظلمت یہ خروش ابر و باد آپ ہی کا دل ہے ملنے اس فضا میں آئے ہیں تجھ سے مل کر سب سے اب دامن چھڑا لیں گے مگر ساتھ جن ...

    مزید پڑھیے

    راہیں تو بہت تھیں زندگی میں

    راہیں تو بہت تھیں زندگی میں ہم کھو گئے عشق و عاشقی میں جو بات کسی میں چاہتے تھے اب تک نہ ملی ہمیں کسی میں وہ لمحہ جو تیرے ساتھ گزرا وہ لمحہ بہت ہے زندگی میں پیکر ہے وہ ایک سادگی کا سو رنگ ہیں اس کی سادگی میں دریا پہ بھی جا کے لوٹ آئے ڈوبے ہوئے کیف تشنگی میں انجام بہار سوجھتا ...

    مزید پڑھیے

    اب کے برسات تو گھر کر کے ہی مسمار گئی

    اب کے برسات تو گھر کر کے ہی مسمار گئی در کو روکا تھا تھپیڑوں میں کہ دیوار گئی کیا سفر کس کا مکاں کیسی ہوا کس کا شجر تیزیٔ پر گئی خس ریزیٔ منقار گئی ہو گئے گوشہ نشیں گھر میں جو ہم خاک بسر کون سی آبروئے کوچہ و بازار گئی دائرے سارے دل و ذہن کے زنجیر بنے چھن گئی روح عمل گردش پرکار ...

    مزید پڑھیے

    خود میں زنداں میں ہوں تیرگی کے

    خود میں زنداں میں ہوں تیرگی کے حرف دوں گا یونہی روشنی کے میں اسے کارنامہ کہوں گا کوئی پہچان لے دکھ کسی کے خود بھی میں جل رہا ہوں جلا کر طاق جاں میں چراغ آگہی کے میرے اسباب نام و نمو کیا بس یہی بانکپن سادگی کے سب غبار اپنی اپنی ہوا میں اس گلی کے ہوں یا اس گلی کے موت کا در کھلا ...

    مزید پڑھیے

    لب طلب بھی نہ پھر مائل سوال ہوا

    لب طلب بھی نہ پھر مائل سوال ہوا کہ جب تقدس کشکول پائمال ہوا عجیب قحط خیال و خبر سے گزرے ہم کسی نے حال بھی پوچھا تو جی بحال ہوا ملے بہ سعیٔ رفو اور اٹھے گریباں چاک یہ مشورہ ہوا لوگو کہ اشتعال ہوا وہ جال پھیلے ہوا میں کہ پر کشاؤں کو نشیمنوں کی طرف لوٹنا محال ہوا یہ حشر اس کا ہے ...

    مزید پڑھیے

    خیال تھا کہ گماں کو یقیں بنا دوں گا

    خیال تھا کہ گماں کو یقیں بنا دوں گا اور اب یہ خواب لکھوں گا بھی تو مٹا دوں گا مجھے بھی ساتھ ہی لے لو مگر نہیں یارو میں سست رو ہوں تمہاری تھکن بڑھا دوں گا ہوائے شب مرے شعلے سے انتقام نہ لے کہ میں بجھا تو افق تک دھویں اڑا دوں گا بڑے شباب سے آئے گا سیل رنگ اب کے پھر اس میں میں بھی تو ...

    مزید پڑھیے

    کون آشنا ہے کس پہ نظر جائے شہر میں

    کون آشنا ہے کس پہ نظر جائے شہر میں آخر غریب شہر کدھر جائے شہر میں شیشوں سے ہار کر طلب سنگ میں کوئی سمٹے تو ریزہ ریزہ بکھر جائے شہر میں اتنا بھی تنگ عرصۂ جاں شہر پر نہ کر روز اک قبیلہ جاں سے گزر جائے شہر میں اب تک قدم ہی دھوپ میں ٹھہرے ہیں اس طرف تو چھاؤں دے تو دل بھی ٹھہر جائے شہر ...

    مزید پڑھیے

    اب جلد یہ بے آبیٔ موسم کی بلا جائے

    اب جلد یہ بے آبیٔ موسم کی بلا جائے اشجار کی فریاد سے سیلاب نہ آ جائے اتنا بھی لہو کو نہ جنوں خیز کیا جائے پھوٹے رگ گل سے تو رگ سنگ میں آ جائے بارش ہے تو ایسی کہ لرز جائے زمیں بھی پانی ہے کہ مٹی کو بھی تلوار بنا جائے لوگ ایسے کہ سینے کی کپٹ شیشے پہ لکھ دیں ہم ایسے کہ پتھر کو بھی ...

    مزید پڑھیے

    نہیں گلوں کی جو کانٹوں کی اب خوشی ہے مجھے

    نہیں گلوں کی جو کانٹوں کی اب خوشی ہے مجھے کہ راستے میں یہ دولت پڑی ملی ہے مجھے کچھ ایسی آگ سی محسوس ہو رہی ہے مجھے کہیں کی بھڑکی ہوئی جیسے لگ گئی ہے مجھے بہت میں سوچ چکا پھر بھی ایک سوچ میں ہوں کہ جیسے اور بھی کچھ سوچنا ابھی ہے مجھے رہ سفر میں ہے دور ایک ضو خدا جانے یہ شہر سے کہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5